"آستانہ 2” "وعدوں” کے ساتھ اختتام پذیر

  بيروت: كارولين عاكوم ـ پیرس: ميشال ابو نجم کل آستانہ اجلاس کے دوران شام میں فائر بندی کو مستحکم کرنے کے معاہدے میں ناکامی رہی جبکہ ان مذاکرات سے شامی مخالف جماعتوں کو انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر صرف وعدے ہی ملے جن کی تکمیل انقرہ مذاکرات میں ہوگی۔ […]

"آستانہ 2” "وعدوں” کے ساتھ اختتام پذیر
1487267981285664200

بيروت: كارولين عاكوم ـ پیرس: ميشال ابو نجم

کل آستانہ اجلاس کے دوران شام میں فائر بندی کو مستحکم کرنے کے معاہدے میں ناکامی رہی جبکہ ان مذاکرات سے شامی مخالف جماعتوں کو انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر صرف وعدے ہی ملے جن کی تکمیل انقرہ مذاکرات میں ہوگی۔

اجلاسوں کے نتائج مایوس ہو كر شامی مخالف جماعتوں کے ذرائع نے کہا کہ "آستانہ” کانفرنس (کی ناکامی) روس اور ترکی دونوں نگرانوں کے مابین گہرے اختلافات کے سبب ہے۔” جبکہ شام کے حکومتی وفد کے سربراہ بشار الجعفری نے مخالف  جماعتوں كى جانب سے  حتمی بیان پر دستخط نہ کرنے کی وجہ سے اس (اجلاس) کی ناکامی کی ذمہ داری ان پر عائد كى ہے۔

آستانہ اجلاسوں میں شامل ذرائع نے "الشرق الاوسط” سے کہا: "مخالف جماعتوں کے موقف کی طرح ترکی کے بھی اس دستاویز پر تحفظات تھے۔ اس کے چھوٹے سے وفد میں  نمائندے کم تھے جو حقیقت میں نہ تو اس پر بحث کر سکتے تھے اور نہ ہی دستخط کر سکتے تھے۔”

"آستانہ” مذاکرت کی ناکامی اور مخالف جماعتوں کا اس سے مایوس ہونے کے باوجود، "مذاکراتی سپریم کمیشن” کے ایک ذریعہ کے مطابق مخالف  جماعتوں کے پاس آئندہ ہفتے جنیوا مذاکرات میں شرکت کرنے کے علاوہ کوئی اور اختیار نہیں ہے۔ ذرائع نے "الشرق الاوسط” کو مزید کہا کہ "ابھی تک بائیکاٹ کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ صورت حال کے مطابق روس وفد اتھارٹی کی جگہ متبادل وفد تلاش کر رہا ہے۔”

ذرائع نے "جنیوا” مذاکرات کو "آستانہ” مذاکرات سے بھی زیادہ برے ہونے کی جانب اشارہ کیا ہے۔

جمعہ 21 جمادى الاول 1438 ہجری­ 17 فروری 2017ء  شمارہ: (13961)