"آستانہ 3” کا اختتام – اور ایران کی ضمانت

دمشق کے مرکز پر دو خود کش حملے اور ہلاکتیں سوالیہ نشان ہیں   بيروت: كارولين عاكوم – بولا أسطيح کل "آستانہ 3” کے اجلاس کی کاروائی خاصی پریشانی کا شکار رہی۔ اس دوران شامی مخالف جماعتوں کی شرکت اور عدم شرکت کے بارے میں بیانات گردش کرتے رہے۔ حتی کہ صبح کے سیشن […]

"آستانہ 3” کا اختتام – اور ایران کی ضمانت
دمشق کے مرکز پر دو خود کش حملے اور ہلاکتیں سوالیہ نشان ہیں
1489596044811157500

بيروت: كارولين عاكوم – بولا أسطيح

کل "آستانہ 3” کے اجلاس کی کاروائی خاصی پریشانی کا شکار رہی۔ اس دوران شامی مخالف جماعتوں کی شرکت اور عدم شرکت کے بارے میں بیانات گردش کرتے رہے۔ حتی کہ صبح کے سیشن کے اختتام کے اعلان کے ساتھ بعض روسی عہدے داران نے مخالف جماعتوں کے وفد کی متوقع آمد کے پیش نظر مزید ایک روز تک مذاکرات کے جاری رہنے کی یقین دہانی کی۔ تاہم کل مشاورتی اجلاس کی کاروائی کے اچانک ختم ہونے سے ظاہر ہوتا ہے کہ شام میں جنگ بندی کے سلسلہ میں ایران بطور "نئے ضامن” کے داخل ہو رہا ہے، جیسا کہ مخالف جماعتوں کی طرف سے "آستانہ” کاروائی کے اختتام کا واضح اعلان کیا گیا ہے۔

امن و امان کے اعتبار سے کل دو خود کش بم دھماکوں نے شام کے دارالحکومت کے وسطی علاقے کو ہلا کر رکھ دیا، جس میں دسیوں افراد ہلاک وزخمی ہوگئے۔ الحمیدیہ کے علاقے میں قصر عدل (سپریم کورٹ) کی پرانی عمارت کے اندر ایک خودکش حملہ آور کے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑانے کے نتیجے میں 40 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے اور جبکہ یہ دھماکہ الربوہ کے علاقے میں واقع ایک ہوٹل میں ہونے والے دھماکے سے پہلے ہوا تھا۔ یہ خود کش دھماکے جنہوں نے دمشق کو نشانہ بنایا یہ دارالحکومت میں سیکورٹی کی صورت حال پر ایک سوالیہ نشان ہیں۔

جمعرات 17 جمادى الثانی 1438 ہجری ­ 16 مارچ 2017ء  شمارہ: (13988)