امریکہ اور سعودیہ کے دمیان 200 ارب ڈالر کی شراکت

واشنگٹن: خاطر الخاطر کل وائٹ ہاؤس نے اس بات کا اعلان کیا کہ امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور سعودی کے ولی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے وائٹ ہاؤس میں اپنے ملاقات کے دوران علاقہ کے استحکام کو نشانہ بنانے والی ایران کی سرگرمیوں کے خلاف بر سر پیکار […]

امریکہ اور سعودیہ کے دمیان  200 ارب ڈالر کی شراکت
1

واشنگٹن: خاطر الخاطر

کل وائٹ ہاؤس نے اس بات کا اعلان کیا کہ امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور سعودی کے ولی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے وائٹ ہاؤس میں اپنے ملاقات کے دوران علاقہ کے استحکام کو نشانہ بنانے والی ایران کی سرگرمیوں کے خلاف بر سر پیکار ہونے کی اہمیت کے سلسلہ میں گفتگو کی ہے اور اسی طرح دونوں رہنماؤں نے دونوں ملکوں کے درمیان سرمایہ کاری اور نئے اقتصادی پروجکٹ کی ترقی کے مواقع کے سلسلہ میں بھی غور وفکر کی ہے۔

کل وائٹ ہاؤس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ٹرمپ نے شہزادہ محمد بن سلمان کےساتھ ملاقت کے دوران یہ اعلان کیا ہے کہ وہ ایک نئے سعودی اور امریکی پروجکٹ کو ترقی دینے میں سعودی کا تعاون کریں گے اور اس پروجکٹ میں بجلی، صنعت، انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی شامل ہیں جن کی سرمایہ کاری کی  قیمت اگلے چار سالوں میں  200  ارب ڈالر ہوگی۔ صدر ٹرمپ اور شہزادہ محمد نے عالمی اقتصاد کی ترقی کے تعاون کے لئے بجلی کے میدان میں مسلسل مشورہ کرنے پر معاہدہ کیا ہے۔

اسی سلسلہ میں شہزادہ محمد بن سلمان کے ایک بڑے مستشار نے "بلومبیرگ” سے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ اور شہزادہ محمد بن سمان کی ملاقات بہت زیادہ کامیاب تھی اور انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ اس ملاقات کی وجہ سے سارے امور درست ہو گئے ہیں اور اقتصادی، سیکورٹی، فوجی اور سیاسی جیسے تمام میدانوں میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کافی مضبوط ہوئے ہیں اور یہ سب اس وجہ ہوا کہ صدر ٹرمپ نے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی اہمیت کو سمجھ کر علاقہ کی مشکلات کا اندازہ لگایا ہے۔

جمعرات 17 جمادی الثانی 1438ہجری – 16مارچ 2017ء شمارہ نمبر {13988}