برما

برما روہنگیا کی واپسی مسترد کر رہا ہے

  رنگون: "الشرق الاوسط” کل برما کی حکومت نے گذشتہ ہفتوں کے دوران سرحد پار بنگلہ دیش کی جانب جانے والے روہنگیا کی واپسی کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ سرکاری معلومات کمیٹی نے ایک بیان میں کہا "جو افراد پرتشدد حملوں کے دوران گرفتاریوں سے خوفزدہ ہو کر دیہاتوں سے دوسرے [&hel

برما روہنگیا کی واپسی مسترد کر رہا ہے

رنگون: "الشرق الاوسط”

کل برما کی حکومت نے گذشتہ ہفتوں کے دوران سرحد پار بنگلہ دیش کی جانب جانے والے روہنگیا کی واپسی کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ سرکاری معلومات کمیٹی نے ایک بیان میں کہا "جو افراد پرتشدد حملوں کے دوران گرفتاریوں سے خوفزدہ ہو کر دیہاتوں سے دوسرے ممالک فرار ہو چکے ہیں (وہ واپس نہیں آ سکتے)، اور جس گاؤں کے باشندے فرار نہیں ہوئے انہیں قانونی تحفظ فراہم کیا جائے گا”۔ اس سے قبل حکومت نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ وہ ریاست راخین کے شمال میں ان مسلمانوں کے لئے پناہ گاہیں تعمیر کرے گی "جو یہ ثابت کریں گے کہ ان کا دہشت گردی سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے”۔

دریں اثناء برما فوج کے سربراہ جنرل مین اونگ ہیلنگ نے عوام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ روہنگیا مسلم اقلیت کے "مسٔلہ” پر متحد ہوں، کیونکہ وہ انہیں اس ملک کے اصل باشندے تصور نہیں کرتے ہیں۔

پیر – 27 ذی الحجة 1438 ہجری – 18 ستمبر 2017ء  شمارہ: [14174]