"داعش” مصری چرچ میں دھماکہ کی ذمہ دار
"نوے کی دہائی جیسی دہشت گردی” پر قاہرہ کی تشویش قاہرہ: محمد حسن شعبان تنظیم داعش نے کل اپنے جاری بیان میں گذشتہ اتوار کے روز قاہرہ کے وسطی علاقے عباسیہ کے چرچ میں ہونے والے دھماکہ کی ذمہ داری قبول کی ہے- اس سے قبل مصری وزارت داخلہ نے سید […]
"نوے کی دہائی جیسی دہشت گردی” پر قاہرہ کی تشویش

قاہرہ: محمد حسن شعبان
تنظیم داعش نے کل اپنے جاری بیان میں گذشتہ اتوار کے روز قاہرہ کے وسطی علاقے عباسیہ کے چرچ میں ہونے والے دھماکہ کی ذمہ داری قبول کی ہے- اس سے قبل مصری وزارت داخلہ نے سید قطب اور تنظیم انصار بیت المقدس کے نظریات کے حامل افراد کو اس دھماکہ کا ذمہ دار ٹھرایا تھا۔
کل "داعش” کے جاری بیان جسے "رویٹر” نے نشر کیا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ ابو عبد اللہ المصری نامی خود کش حملہ آّور نے چرچ میں خود کش بیلٹ کے ذریعے دھماکہ کیا- علاوہ ازیں تنظیم نے دہشت گردانہ مزید حملوں کی بھی دھمکی دی ہے۔
مصری وزارت داخلہ نے وضاحت کی تھی کہ اس کاروائی میں "ابو دجانہ الکنانی” کی کنیت کا حامل مرکزی ملزم اخوان المسلمین کے رہنما سید قطب کے نظریات کا حامل تھا جنہیں گذشتہ صدی میں چهٹے کی دہائی کے وسط میں قاہرہ میں پھانسی دے دی گئی تھی۔ نوے کی دہائی جیسی دہشت گردی لوٹ آنے پر مصر کے سیکورٹی حکام تشویش کا شکار ہیں۔
مصری وزارت داخلہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ دھماکہ کا مرکزی ملزم ابو دجانہ الکنانی "فیوم” میں اپنی رہائش گاہ کے قریب اخوان المسلمین کے ایک خاندان کے ساتھ منسلک تھا- فیوم کو ان خیالات کے حامل افراد کا گڑھ شمار کیا جاتا ہے اور یہ تکفیری جماعت "شوقی الشیخ” کے ساتھ منسلک ہے جنہوں نے جہادی تنظیم میں اپنی خدمات دی تھیں وہ اپنے مخصوص نظریات قائم کرنے سے پہلے کئی سال کے لئے گرفتار کئے گئے- انہوں نے حکومت اور دوسرے لوگوں (جو شوقى کى فكر وخيالات سے منسلكـ نہیں ہیں) کے خلاف ہتھیار اٹھانے کی مكتب فکر وخيال کی بنیاد رکھی۔
اندرونی جانچ وتحقيقات کے مطابق الکنانی کا ایک تکفیری ٹھکانہ سے رابطہ تھا تاکہ وہ سید قطب کی اخوان المسلمین سے پیدا ہونے والے تکفیری نظریات کو اپنا سکے- تحقیقات میں اس جانب بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ وہ دو مقدمات میں مطلوب تھا۔