ایران اور مغربى ممالكـ کے درمیان کشمکش کے اسباب
لندن: عادل السالمی ایران کے خلاف لگائی گئی امریکی پابندیوں میں اضافہ کرنے کے جواب میں یکطرفہ اقدامات کرنے کے سلسلہ میں ایرانی صدر حسن روحانی، وزیر خارجہ محمد جواد ظریف اور ایران کے ایٹمی پروگرام کے سربراہ علی اکبر صالحى کے بیان کے بعد ایران اور مغربى ممالكـ کے درمیان ایک […]

لندن: عادل السالمی
ایران کے خلاف لگائی گئی امریکی پابندیوں میں اضافہ کرنے کے جواب میں یکطرفہ اقدامات کرنے کے سلسلہ میں ایرانی صدر حسن روحانی، وزیر خارجہ محمد جواد ظریف اور ایران کے ایٹمی پروگرام کے سربراہ علی اکبر صالحى کے بیان کے بعد ایران اور مغربى ممالكـ کے درمیان ایک نئی محاذ آرائی کے آثار سامنے آئے ہیں- یاد رہے کہ ان پابندیوں میں جوہری ایندھن کی پیداوار اور بحری جہازوں کے لئے جوہری انجن بنانے کا بھی ذکر ہے۔
ایرانی خبر رساں اداروں کی طرف سے نقل کردہ خبر کے مطابق روحانی نے ان پابندیوں کو جوہری معاہدہ پر عمل درآمد کرنے کے سلسلہ میں "امریکی غفلت” سے تعبیر کیا ہے اور جوہری معاہدہ ختم کئے جانے کے جواب میں ایرانی صدر نے وزیر خارجہ سے پہلے جوہری معاہدہ کی نگرانی کرنے والی کمیشن کے ذریعہ پیش کردہ مراحل کو نافذ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
روحانی نے صالحی کے نام اپنی ہدایات میں ایران کے بحری جہازوں کے جوہری انجنوں کے ڈیزائن کرنے اور ان کو بنانے کے تحقیقی انسٹيٹيوٹ کے ساتھ تعاون کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ اسی طرح ان کے اس مطالبہ میں بحری جہازوں کے انجنوں میں استعمال کئے جانے والے جوہری ایندھن پیدا کرنے کا بھی ذکر ہے۔