داعش رقہ میں سڑکوں پر جنگ کے لئے مستعد
بيروت: بولا اسطيح تنظیم داعش شام کے رقہ نامی شہر میں آئندہ ہونے والی جنگ کی تیاری میں متحرک ہے اور علاقائی سرگرم کارکنوں نے اس جنگ کو شڑکوں کی جنگ کا نام دیا ہے جبکہ اس سے قبل نہر فرات پر شہر کے پلوں کو اڑا کر دونوں کنارے کے […]

بيروت: بولا اسطيح
تنظیم داعش شام کے رقہ نامی شہر میں آئندہ ہونے والی جنگ کی تیاری میں متحرک ہے اور علاقائی سرگرم کارکنوں نے اس جنگ کو شڑکوں کی جنگ کا نام دیا ہے جبکہ اس سے قبل نہر فرات پر شہر کے پلوں کو اڑا کر دونوں کنارے کے تعلقات کو ختم کر دینے کا بین الاقوامی معاہدہ ہوا ہے۔ شام کے ڈیموکریٹک فورسز کے میلیشیاؤں نے بھی اس کی طرف پیش رفت کیا ہے اور یاد رہے کہ ان میلیشیاؤں میں زیادہ تر کردی ہیں۔
ریاستہائے متحدہ امریکہ کی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد کے ترجمان جان ڈورائن نے جمعرات کی رات اعلان کیا ہے کہ شام کی ڈیموکریٹک فورسز نے گزشتہ سال 5 نومبر کو داعش کے خلاف فرات غضب نامی حملہ کے آغاز سے لے کر اب تک رقہ کے 410.3 کیلو میٹر علاقہ پر قبضہ کر لیا ہے۔
موسکو سیاسی اور میدانی طور پر شامی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مصالحت کرنے کی کوشش میں منہمک ہے۔ میدانی طور پر روس نے پرسو انقرہ کی طرف سے حمایت شدہ اپوزیشن فورسز اور نظام اور اس کے ہمنوا فورسز کے درمیاں جھڑپوں کے بعد الباب شہر میں جنگ نہ ہونے کی کوشش کی ہے۔ ترکیا نے اپنی افواج کو غلط خبر دینے کے سلسلہ میں کریملن کے اعلان کی تردید کی ہے جس خبر کی وجہ سے شہر پر روسی جنگی جہازوں کے ذریعہ کئے جانے والے حملہ میں چند فوجی ہلاک اور دیگر زخمی ہوئے ہیں۔
ہفتہ 15 جمادی الاول 1438ہجری – 11 فروری 2017 شمارہ نمبر {13955}