ایران کی طرف سے ٹرمپ کو اپنے میزائل پروگرام پر کابند رہنے کا چیلنج
لندن: "الشرق الاوسط” کل ایرانی انتظامیہ کے کارکنان نے انقلاب کے اڑتیسویں تقریب کے اجلاسوں میں اپنی گفتگو کا مرکز امریکہ کی نئی انتظامیہ کو بناتے ہوئے میزائل پروگرام کے عمل در آمد پر زور دیا ہے۔ صدر حسن روحانی نے اپنے امریکی ہم منصب ڈونالڈ ٹرمپ کے بارے میں کہا […]

لندن: "الشرق الاوسط”
کل ایرانی انتظامیہ کے کارکنان نے انقلاب کے اڑتیسویں تقریب کے اجلاسوں میں اپنی گفتگو کا مرکز امریکہ کی نئی انتظامیہ کو بناتے ہوئے میزائل پروگرام کے عمل در آمد پر زور دیا ہے۔ صدر حسن روحانی نے اپنے امریکی ہم منصب ڈونالڈ ٹرمپ کے بارے میں کہا ہے کہ وہ ابھی سیاست میں بچہ ہیں اور آگاہ کرتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ جو بھی دھمکی کی زبان اختیار کرے گا اس کو اس پر شرمندہ ہونا پڑے گا۔
روحانی نے دار الحکومت میں امریکہ کے لئے موت کا نعرہ لگاتے ہوئے مظاہرہ کرنے والوں کے سامنے کہا کہ ہم اپنے علاقے اور دنیا میں خاص صورتحال کے ساتھ زندگی گزاریں گے۔ دنیا اور امریکہ میں بچوں کے ہاتھوں میں زمام حکومت ہے۔ یہ تمام لوگ جان لیں کہ ایرانی عوام کے ساتھ ادب اور احترام کے ساتھ گفتگو کرنا ضروری ہے اور ایرانی عوام دھمکیوں کا جواب دینا جانتی ہے اور ہم اس موقعہ سے کہیں گے کہ ایران شیروں کا گوفہ ہے۔
انہوں نے کل مختلف شہروں میں مظاہرہ میں شرکت کرنے والوں کی بڑی تعداد سے متعلق کہا کہ یہ اسلامی ایران کی طاقت وقوت کی دلیل ہے اور وائٹ ہاؤس میں بیٹھے نئے ذمہ داروں کے جھوٹھوں کا جواب ہے۔ انہوں نے سرکاری مظاہرہ کے آختتام پر پڑھے جانے والے اپنے اختتامی بیان میں اس بات پر زور دیا کہ امریکہ ہمیشہ دشمن اول رہے گا اور اس میں واشنگٹن کی طرف سے جوہری معاہدہ شکنی کی مذمت بھی کی۔ انہوں نے اخیر میں بہادری کے ساتھ مضبوط موقف اور موثر حفاظتی طریقۂ کار اختیار کرنے کی دعوت دی ہے۔
ہفتہ 15 جمادی الاول 1438ہجری – 11 فروری 2017 شمارہ نمبر {13955}