"حدبا حادثہ” میں کوئی بھی زندہ نہیں بچا
اربيل – بغداد: "الشرق الاوسط” کل سول ڈیفنس کی ٹیموں نے عراق کے شہر موصل کی مرکزی مسجد نوری اس کے تاریخی مینار "حدبا” اور اس کے ارد گرد گھروں کے ملبے سے درجنوں شہریوں کی لاشوں کو نکال لیا ہے، جس کے بارے میں عراقی حکام نے مسلح تنظیم داعش پر الزام عائد […]

اربيل – بغداد: "الشرق الاوسط”
کل سول ڈیفنس کی ٹیموں نے عراق کے شہر موصل کی مرکزی مسجد نوری اس کے تاریخی مینار "حدبا” اور اس کے ارد گرد گھروں کے ملبے سے درجنوں شہریوں کی لاشوں کو نکال لیا ہے، جس کے بارے میں عراقی حکام نے مسلح تنظیم داعش پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے بدھ کی شام انہیں تباہ کر دیا تھا۔
موصل میں "کردستانی قومی یونین” کے اطلاعاتی ذمہ دار غیاث سورجی نے "الشرق الاوسط” کو بتایا کہ سول ڈیفنس اور افواج کی ٹیموں نے ابھی تک "تقریبا سو افراد کی لاشوں” کو نکال لیا ہے لیکن ابھی بھی مزید لاشیں مسجد کے علاقے میں پرانے گھروں؛ جو "دھماکے کی وجہ سے گر گئے تھے”، ان کے ملبے کے نیچے دبی ہوئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسجد کے قریب رہنے والے شہریوں میں سے "کوئی بھی زندہ نہیں بچا ہے”۔