پہلا صفحہ
حزب اللہ کی وصیت میں دمشق کی وصیت
بیروت: کارولین عاکوم لبنان سے شامی فوج کے نکلنے کے چودہ سال بعد انتظامیہ کے مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ علیحدگی مکمل طور پر نہیں ہوئی ہے اور حزب اللہ پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ لبنان میں اس کی نگراں ہے جبکہ اس کے ہمنواؤں نے دمشق کے ساتھ […]

بیروت: کارولین عاکوم
لبنان سے شامی فوج کے نکلنے کے چودہ سال بعد انتظامیہ کے مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ علیحدگی مکمل طور پر نہیں ہوئی ہے اور حزب اللہ پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ لبنان میں اس کی نگراں ہے جبکہ اس کے ہمنواؤں نے دمشق کے ساتھ اچھے تعلقات کا مطالبہ کیا ہے۔
پارلیمنٹ کے نائب صدر ایلی الفرزلی نے کہا کہ لبنان کوئی مستقل ملک نہیں ہے بلکہ وہ سب کے لیے جائز ہے اور اس کا تعلق مختلف محوروں سے ہے اور شام اور ایران اس کا ایک حصہ ہے۔
اسی کے مقابل میں سابق انصاف کے وزیر اشرف ریفی نے کہا کہ ملک نے شامی فورسز کی واپسی کے چودہ سال بعد بھی مکمل طور پر اپنے پورے حق کو حاصل نہیں کیا ہے اور اسی بات کا اظہار نائب نے بھی کیا ہے اور یہ امید ظاہر کی ہے کہ بعض لوگوں کے دل لبنان کے آزاد فیصلہ پر مستقل شامی دسترس سے آزاد ہو جائیں گے۔ (۔۔۔)
اتوار 23 شعبان المعظم 1440 ہجری – 28 اپریل 2019ء – شمارہ نمبر [14760]