خلیجی فضاء میں قزاقی

سلمان الدوسری یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ ایک خلیجی ملک نے دوسرے خلیجی ملک کے خلاف کاروائی اس وقت کی جب قطر کی جنگی جہازوں نے بحرین کی طرف جانے والے امارات کے دو سول جہازوں کو روکنے کی کوشش کی تھی اور کون اس کی تصدیق کر سکتا […]

سلمان الدوسری

یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ ایک خلیجی ملک نے دوسرے خلیجی ملک کے خلاف کاروائی اس وقت کی جب قطر کی جنگی جہازوں نے بحرین کی طرف جانے والے امارات کے دو سول جہازوں کو روکنے کی کوشش کی تھی اور کون اس کی تصدیق کر سکتا ہے۔۔۔ قطر بیس ممالک کے باشندوں کی سلامتی کے ساتھ کھلواڑ کر رہا ہے اور اسے اس بات کا علم ہے کہ سول جہازوں کے گرنے کا اس وقت احتمال ہوتا ہے جب کسی فوجی دھمکی کا اشارہ ملتا ہے جیسے قطر کے فوجی جہازوں نے کیا۔(۔۔۔) فطری بات ہے کہ قطر نے جو کام کیا اس کا انکار کیا اور اس سے براءت کا اظہار بھی کیا جبکہ جلد ہی بحرین کی ٹیلیویزن نے مانیٹرنگ ریڈار کے بعد روکنے کی تصویر شدہ دلائل پیش کرکے اس جھوٹ کا پردہ فاش کردیا اور سارے لوگوں کے لیے یہ ثابت ہو گیا کہ قطر نے اسے کیا پھر اسے جھٹلا دیا اور یہ معزول شدہ پڑوس کی طرف سے ایسا رویہ ہے جس کے علاقہ کے ممالک عادی ہو چکے ہیں۔

اگر قطر کے جنگی جہازوں کے ذریعہ امارات کے جہازوں کو روکنے کی یہ کاروائی قطر کی طرف سے اپنے پڑوسیوں کے خلاف کیے جانے والے جرائم میں ایک نیے جرم کا اضافہ ہے تو یہ ایک ایسا ناکام اقدام ہے جس کے پیچھے تین مقاصد ہو سکتے ہیں؛ ان میں سے ایک یہ ہے کہ دوحہ کسی بھی قیمت پر بین الاقوامی سامنہ کے کیے اپنے مسئلہ کو بحال کرنا چاہتا ہے جبکہ اس نے اس سے پہلے چھ ماہ کی مدت تک عجیب وغریب جواب دیکھا ہے: ہم ہرگز مداخلت نہیں کریں گے۔۔۔۔ آپ لوگ اپنے پڑوسیوں کے ساتھ اپنے مسئلہ کو حل کریں۔(۔۔۔) جہاں تک دوسرے مقصد کی بات ہے تو دوحہ دو معاملہ سے بے چین ہے یعنی ایک بائکاٹ ہے جس نے اسے کمزور کر دیا ہے اور دوسرا بائکاٹ کرنے والے ممالک کے ساتھ فضائی حدود استعمال کرنے پر قادر نہ ہونا ہے اور اسی مسئلہ کے سلسلہ میں اس کی چاہت ہے کہ امارات اور بحرین کو بھی اسی مسئلہ کا سامنا کرنا پڑے اور دونوں ملک کے درمیان ہونے والے فضائی سفر کے سلسلہ میں کوئی متبادل طریقہ اختیار کیا جائے یا سول جہازوں کے ساتھ فوجی جہاز بھی ہو۔(۔۔۔) جہاں تک تیسرے مقصد کی بات ہے اور یہ بہت ہی پرخطر ہے تو وہ فضائی فوجی مقابلہ ہے اور اس میں بڑے ممالک مداخلت کریں اور وہ بحران گردش کرے، یہ قطری کاغذ کا کمال ہے کہ بحران کے پہلے ہی دن سے وہ اس کے استعمال کرنے کی کوشش سے باز نہیں آیا ہے جبکہ اس سے قبل اس نے اپنی سرزمین پر فوجی حملہ سے حمایت کے لیے ترکی فوج کا استقبال کیا ہے اور بعد میں یہ ثابت ہو گیا کہ اس کا ارادہ تو تھا ہی نہیں۔(۔۔۔)

بہت اچھا ہے امارات قطر کی اس بیکار کاروائی کے پیچھے نہیں بھاگا اور اس نے قطر کی مقصد کو پورا نہیں ہونے دیا۔(۔۔۔)

عادۃ قطر اپنے ان رویوں کی وجہ سے ناکام ہوا جن کے انجام کو سمیٹا نہیں جا سکتا ہے اور میں نہیں سمجھتا ہوں کہ وہ مختلف طریقوں کے ذریعہ کی جانے والی اشتعال انگیزیوں سے باز آئے گا جبکہ وہ بائکاٹ کی زندگی سے دوچار ہے اور اس کے بحران کو فراموش کر دیا گیا ہے اور وہ اقتصادی، سماجی اور سیاسی بے چینی سے کراہ رہا ہے۔

جمعرات – 21 جمادی الاول 1440 ہجری – 18 جنوری 2018ء  شمارہ نمبر: (14296)