کردیوں کے سامنے تین اختیارات
بغداد – اربیل: "الشرق الاوسط” جب ایرانی پاسداران انقلاب کے تابع فیلق الرحمن کے کمانڈر قاسم سلیمانی 25 ستمبر کو ہونے والے آزادی کے میمورنڈم کو ملتوی کئے جانے کے سلسلہ میں کردستانی رہنماؤں کو مطمئن کرنے میں ناکام ہوئے تو کردستانی ذرائع نے میمورنڈم کے سلسلہ میں کردیوں کے سامنے

بغداد – اربیل: "الشرق الاوسط”
جب ایرانی پاسداران انقلاب کے تابع فیلق الرحمن کے کمانڈر قاسم سلیمانی 25 ستمبر کو ہونے والے آزادی کے میمورنڈم کو ملتوی کئے جانے کے سلسلہ میں کردستانی رہنماؤں کو مطمئن کرنے میں ناکام ہوئے تو کردستانی ذرائع نے میمورنڈم کے سلسلہ میں کردیوں کے سامنے پیش کردہ تین اختیارات کا انکشاف کیا ہے۔
نیشنل یونین کے پارلیمانی بلاک کی خاتون سربراہ آلا طالبانی نے الشرقیہ نامی چینل کے بیان میں انکشاف کیا ہے جس کے مضمون کی تصدیق دوسرے ذرائع نے "الشرق الاوسط” کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کی ہے اور اس میں کہا گیا ہے کہ عراق میں امریکی سفیر دوگلان سیلیمان نے چند دن پہلے کردیوں کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں کہا تھا کہ میمورنڈم کے سلسلہ میں آپ لوگوں کے سامنے صرف تین اختیارات ہیں۔ پہلا اختیار یہ ہے کہ میمورنڈم نہ کیا جائے اور نہ ہی اس کے لئے کوئی دوسرا وقت متعین کیا جائے اور اس حالت میں کردیوں کو امریکی مدد ملتی رہے گی۔ دوسرا اختیار یہ ہے کہ میمورنڈم صرف صوبہ کے اندر کیا جائے اور اس وقت امریکہ خاموش رہے گا اور تیسرا اختیار بہت خطرناک ہے یعنی میمورنڈم صوبہ کے باہر اور اندر سب جگہ کیا جائے اور اس حالت میں صرف کرد افراد ہی اس کے ذمہدار ہوں گے اور ان کو کوئی امریکی مدد نہیں ملے گی حتی کہ اگر بغداد اور ایران فوجی مداخلت بھی کر دے پھر بھی امریکہ کچھ نہیں کرے گا۔
جمعرات – 23 ذی الحجة 1438 ہجری – 14 ستمبر 2017ء شمارہ نمبر: (14169)