مشرقی حلب میں مخالفین پر گھیرا تنگ
لافروف کی مخالف جماعتوں کو "کچلنے” کی دھمکی ماسکو: طہ عبد الواحد – بیروت: "الشرق الاوسط” حلب کے شہر سے بلا کسی استثناء تمام مسلح افراد کے نکلنے پر روسی وزیر خارجہ سیرگی لافروف کی ریاست ہائے متحدہ امریکہ سے اس سمجھوتے سے متعلق توقعات پوری نہیں ہوئیں کہ جن پر وہ […
لافروف کی مخالف جماعتوں کو "کچلنے” کی دھمکی

ماسکو: طہ عبد الواحد – بیروت: "الشرق الاوسط”
حلب کے شہر سے بلا کسی استثناء تمام مسلح افراد کے نکلنے پر روسی وزیر خارجہ سیرگی لافروف کی ریاست ہائے متحدہ امریکہ سے اس سمجھوتے سے متعلق توقعات پوری نہیں ہوئیں کہ جن پر وہ نہایت ہی پر امید تھے۔ لیکن یہ سب مسلح جماعتوں کو مشرقی حلب سے باہر نہ نکلنے کی صورت میں انہیں کچلنے کی تنبیہہ کو دہرانے سے اسے منع نہیں کرتا، جبکہ حکومتی اس کےاتحادیوں کی افواج کی دیگر علاقوں کی جانب پیش قدمی اور کنٹرول سے ان کے گرد گھیرا مزید تنگ ہوتا جا رہا ہے۔
کل ماسکو میں پریس کانفرنس کے دوران لافروف نے کہا کہ "کل (بروز پیر) شام اچانک ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی جانب سے روس کو اطلاع دی گئی کہ وہ اپنے ماہرین کی آج (یعنی گذشتہ کل) جینوا میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت نہ کرنے پر معذرت خواہ ہے، یعنی امریکی رائے بدل چکی ہے اور وہ مشرقی حلب کی جانب سے مسلح جماعتوں کی واپسی کے بارے میں اپنی سابقہ تجاویز سے دستبردار ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مشرقی حلب کی صورت حال کے حوالے سے امریکیوں کے پاس ایک نئی تجویز ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ جنگجوؤں کومزید مہلت دلانا چاہتا ہے تاکہ وہ اپنے حوصلوں کو ایک بار پھر بحال کرسکیں”۔
لافروف نے مشرقی حلب چھوڑنے سے انکارکرنے والے ہر ایک کو ختم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے بالکل واضح الفاظ میں کہا کہ: "کسی بھی صورت میں اگر کوئی (مشرقی حلب) سے با آسانی نکلنے سے منع کرے گا تو اس کو جلدختم کر دیا جائے گا۔
دوسری جانب، فرانسیسی اخباری ایجینسی کے مطابق امریکی وزیر خارجہ جون کیری نے انکار کیا ہے کہ روس کے ساتھ حلب کے بحران پر مذاکرات کی معطلی کا ذمہ دار واشنگٹن ہے۔ جینوا مذاکرات میں امریکہ کی عدم شرکت پر لافروف کے جاری بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کیری نے کہا کہ "کسی خاص مستردگی کے بارے میں مجھے کوئی علم نہیں”۔