حلب میں 11 گھنٹوں کے لئے فائر بندی۔۔۔ ماسکو مدت میں اضافے کے لئے دباؤ کی باتیں کر رہا ہے۔

{الشرق الاوسط}: ماسکو روسی وزارت دفاع نے کل یہ اعلان کیا کہ حلب میں انسانی صورت حال کے پیش نظر فائربندی کی مدت تین گھنٹے بڑھا دی گئی ہے یعنی مقامی وقت کے مطابق آج شام سات بجے تک، تاکہ شہریوں اور ہتھیار بندوں کو باہر نکلنے میں آسانی ہو، روسی فریق کے قول […]

حلب میں 11 گھنٹوں کے لئے فائر بندی۔۔۔ ماسکو مدت میں اضافے کے لئے دباؤ کی باتیں کر رہا ہے۔
18-2

{الشرق الاوسط}: ماسکو

روسی وزارت دفاع نے کل یہ اعلان کیا کہ حلب میں انسانی صورت حال کے پیش نظر فائربندی کی مدت تین گھنٹے بڑھا دی گئی ہے یعنی مقامی وقت کے مطابق آج شام سات بجے تک، تاکہ شہریوں اور ہتھیار بندوں کو باہر نکلنے میں آسانی ہو، روسی فریق کے قول کے مطابق فائر بندی پہلے صرف آٹھ گھنٹے تھی اب گیارہ گھنٹے ہو گی۔

روسی جوئنٹ اسٹاف کمیٹی میں بڑی کاروائیوں کے حلقے کے ڈائریکٹر سیرگئی روڈسکوی نے کل اپنے بیانات میں کہا تھا کہ مدت بڑھانے کا فیصلہ (بین الاقوامی کمیٹیوں کی جانب سے ڈھیر ساری درخواستیں وصول ہونے کے بعد کیا گیا ہے (اس سے اقوام متحدہ اور شامی ہلال احمر کے نمائندوں کو موقع ملے گا کہ وہ شہر سے بیماروں، زخمیوں اور ان کے ہمراہیوں نیز شہریوں کے خروج کو پر امن بنا سکیں)۔ روڈسکوی نے باہر نکلنے کا فیصلہ کرنے والوں کے اطمینان پر اپنی دلچسپی ظاہر کرتے ہوۓ اعلان کیا کہ شامی فوج کافی فاصلے پر انخلاء کر گئی ہے تاکہ ہتھیار بندوں کے گزرنے کی ضمانت مہیا ہو، انہوں نے اپنی اس امید کا اظہار بھی کیا کہ امریکہ اور دوسری مؤثر طاقتیں ہتھیاربند گروپوں کے قائدین کو (شہر سے نکلنے پر راضی کر سکیں گے) ۔ انہوں نے کہا کہ وہاں پر ایک مرکز پایا جاتا ہے جس میں روسی افسران کام کرتے ہیں اور ان کی گمان کے مطابق (انسانی کاروائی) کے دوران شہر سے شہریوں اور جنگجوؤں کو نکلنے کے لئے یکجہتی قائم کیے ہوۓ ہیں۔ روڈسکوی نے بتایا کہ روسی فریق نے ہتھیاربندوں کے نکلنے کے لئے دو گزرگاہیں محدد کی ہیں، ایک ترکی کی سرحدوں کی طرف جاتی ہے اور دوسری ادلب گونریٹ کی جانب، انہوں نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ تحصیل حمیمیم کی فوج، شامی نظامی فوج اور (گورنریٹ حلب) کے نمائندے حلب سے نکلنے کی گزرگاہوں کی نگرانی کریں گے۔ روس کو شہر حلب پر جاری گولہ باری اور قتل و غارت گری اور تباہی کی وجہ سے زبردست تنقیدوں کی لہر کا سامنا کرنا پڑا تھا، اس صورت حال کے پیش نظر روسی تہذیب یافتگان کے ایک گروپ نے بین الاقوامی سلامتی کونسل کو ایک خط لکھا اس پر روس کی سات سو سے زائد شخصات نے دستخط کيے، خط کے سر ورق میں انہوں نے اس (انسانی سانحہ) کے بارے میں اپنی بے چینی کا اظہار کیا جس سے شہر گزر رہا ہے، انہوں نے سلامتی کونسل پر اس کی ذمہ داری ڈالتے ہوۓ اس بات پر بھی زور دیا کہ (بین الاقوامی سلامتی کونسل میں بڑے ملکوں کی جانب سے حلب میں انسانی سانحہ کو ختم کرنے کی کوششیں بند گلی تک پہنچ چکی ہیں)، اس بنیاد پر روسی تہذیب یافتگان میں سے دستخط کنندگان نے اپنے بیان میں ایک مسودۂ قرارداد کی تجویز پیش کرتے ہوۓ سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ اس پر اعتماد کریں اس کی نص یہ ہے (انسانی امداد کے قافلے تشکیل دینے میں مشترکہ عمل کے لئے کاروائی کا آغاز اور حلب سے شہریوں کو بچانے کے لئے سلامتی کی ضمانت، اس انسانی کاروائی میں سلامتی کونسل کے پانچوں مستقل اراکین کے نمائندوں کی شرکت ضروری ہو)۔ مسودۂ قرارداد کے بیان پر دستخط کنندگان یہ تجویز پیش کرتے ہیں (اس انسانی کاروائی میں رکاوٹ ڈالنا جنگی جرم شمار ہوگا اور ان رکاوٹوں کو منظم اور نافذ کرنے والوں پر نتائج کی ذمہ داری عائد ہوگی)۔

اسی اثنا میں روس نے باضابطہ طور پر اس اجلاس کی زبردست مخالفت کی جو حلب میں انسانی صورت حال پر غور کے کرنے لئے انسانی حقوق کی کونسل 33 ملکوں کی منظوری سے کل منعقد کرے گی۔ جنیوا میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں روسی نمائندہ الیکسی بوردافکین نے کل صبح اپنے بیانات میں ((حلب کے بارے میں انسانی حقوق کی کونسل کے خصوصی اجلاس کو ان سمجھوتوں کی روشنی میں غیر تعمیری قرار دیا جن تک گزشتہ عرصے میں لوزان اجلاس کے دوران رسائی ہوئي تھی) انہوں نے سختی سے کہا کہ (اب یہ اجلاس اس لئے غیر تعمیری ہے کیونکہ ایک محدود کام کا آغاز ہو رہا ہے جو ان کے بقول (نصرت فرنٹ اور (اعتدال پسند مخالف پارٹی) کے مابین جدائی اور مشرقی حلب سے دہشت گردوں کو بھگانے تک محدود ہے))۔ انہوں نے باور کرایا کہ روس اس مسودۂ قرار داد کی مخالفت کر رہا ہے جو انسانی حقوق کی کونسل جاری کرے گی انہوں نے (ہر اس شخص کو اس مسودۂ قرار داد کے خلاف ووٹ دینے کی دعوت دی جو حلب اور شام میں امن کو بحال کرنے کے لئے کام کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے نہ کہ صرف بات کرنے میں)۔ بوردافکین نے حلب کی صورت حال کے بارے میں انسانی حقوق کی کونسل کے خصوصی اجلاس کی دعوت کو ((روس اور شام (ان کا مقصد شامی انتظامیہ ہے) کے خلاف ایک نیا ترویجی اقدام قرار دیا، اس سے ان کی مراد مشرقی حلب میں کنڈلی مار کر بیٹھے  ہوۓ دہشت گردوں کی حمایت ہے))، جبکہ بقول ان کے انسانی حقوق کی کونسل کے اجلاس کا مقصد (ہر گناہ کی ذمہ داری ان پر ڈالنا ہے جو ان سرکش مجرمین کا پیچھا کر رہے ہیں)۔