امریکی وزیر خارجہ کل سے شروع ہونے والی جنگ بندی اور سال کےاختتام پرحکومت کی تشکیل کے بارے میں گفتگو کر رہے ہیں
ریاض: عبد الہادی حبتور امریکی وزیر خارجہ نے کل سے جنگ بندی اور سال کے اختتام پر ایک قومی حکومت کی تشکیل پر یمن کے انقلابیوں کے ساتھ دو طرفہ سمجھوتہ کے اعلان کے ذریعہ ثالثوں کو حیران کر دیا ہے جبکہ یمنی حکومت نے کیری کے اس اعلان سے اپنی براءت […]

ریاض: عبد الہادی حبتور
امریکی وزیر خارجہ نے کل سے جنگ بندی اور سال کے اختتام پر ایک قومی حکومت کی تشکیل پر یمن کے انقلابیوں کے ساتھ دو طرفہ سمجھوتہ کے اعلان کے ذریعہ ثالثوں کو حیران کر دیا ہے جبکہ یمنی حکومت نے کیری کے اس اعلان سے اپنی براءت کا اعلان کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ اسے کیری کے اس اعلان کا بالکل کوئی علم ہی نہیں ۔
مسقط میں امریکی وزیر نے کہا کہ یمن میں دوطرفہ متنازع جماعتوں (قانونی حکومت، حوثی انقلابی اور ان کے حلیف سابق صدر علی عبد اللہ صالح) نے ایک طویل جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے جس کا آغاز کل سےہوگا، علاوہ ازیں سال کے اختام ہر قومی حکومت تشکیل دینے پر بھی سمجھوتا ہوا ہے ۔
لیکن یمنی حکومت نے کیری کے بیان کردہ اعلان کے علم کی نفی کی ہے اور یمنی وزیر خارجہ عبد الملک مخلافی نے الشرق الاوسط کو باور کرایا کہ جون کیری کی وضاحتوں کے فورا بعد یمنی حکومت نے امریکی حکومت سے اس سلسلہ میں وضاحت طلب کی ہے اورسختی کے ساتھ کہا ہے کہ ہمیں اس قسم کے کسی سمجھوتے کی دعوت نہیں دی گئی اور نہ ہی یمنی حکومت کے ساتھ اس سلسلہ میں کوئی گفتگو ہوئی ہے، ممکن ہے کہ کیری کی وضاحتوں میں کوئی خطا ہو یا انہوں نے جو وضاحت کی ہے یہ کوئی پروپیگنڈہ ہو اور حکومت یہ نہیں چاہتی ہے کہ یمنی قضیہ حقیقی امن کے قیام کے بغیر صرف پروپیگنڈے کے عمل میں تبدیل ہو جائے ۔