اسلامی تعلیمات کے مطابق سعودی عرب کا بچوں اور انسانوں کے حقوق کی کفالت پر زور دینا
بچوں کے استحصال کو جرم قرار دینے والے بین الاقوامی معاہدے کافی نہیں ہیں۔ سعودی ولی عہد ریاض: "الشرق الاوسط” ولی عہد، نائب وزیر اعظم اور سعودی وزیر داخلہ شہزادہ محمد بن نائف بن عبد العزیز نے پر زور انداز میں کہا ہے کہ معصوم بچوں کی تجارت اور ان کا استحصال جیسے […]
بچوں کے استحصال کو جرم قرار دینے والے بین الاقوامی معاہدے کافی نہیں ہیں۔ سعودی ولی عہد

ریاض: "الشرق الاوسط”
ولی عہد، نائب وزیر اعظم اور سعودی وزیر داخلہ شہزادہ محمد بن نائف بن عبد العزیز نے پر زور انداز میں کہا ہے کہ معصوم بچوں کی تجارت اور ان کا استحصال جیسے کاموں کو جرم قرار دینے والے بین الاقوامی معاہدے اور اتفاقات اس سنگین جرم کے مقابلہ کرنے کے لئے ناکافی ہیں۔
سعودی ولی عہد نے زور دیا ہے کہ مکمل شعور وآگاہی اور بیداری کے ساتھ ان معاہدے اور اتفاقات کے تعاون کی ضرورت ہے- اسی طرح اس سنگین جرم کے ادراک اور اس کے مقابلہ کے لئے کی جانے والی کوششوں کو تقویت بخشنے کی ضرورت ہے تاکہ منحرف اخلاق واطوار سے مستقبل کی نئی نسلوں اور قوم وملت کی تہذیب وثقافت کے معماروں کی حفاظت کی جا سکے۔
شہزادہ محمد بن نائف نے بچوں کے جنسی استحصال کے روگ تھام کے لئے قومی فورم کی ضیافت کے دوران ایک تقریر میں بیان کیا کہ ان کے ملک کی طرف سے قومی فورم کی میزبانی اسلامی تعلیمات کے مطابق عام طور پر انسانی حقوق اور خاص طور پر بچوں کے حقوق کے سلسلہ میں خادم حرمین شریفین کی قیادت میں کی جانے والی کوششوں اور کاروائیوں کی عکاسی ہے کیونکہ اسلام انسان پر ظلم وزیادتی کو حرام قرار دیتا ہے- خاندان اور خاص طور پر بچوں کو بہت اہمیت دیتا ہے کیونکہ یہی بچے نیک انسانی سماج ومعاشرہ کی بنیاد ہیں- شہزادہ نے مزید یہ بھی کہا کہ بچوں کی حفاظت کا موضوع بہت ہی اہم ہے کیونکہ اگر ان کی حفاظت نہ ہو تو انسانی سماج ومعاشرہ کی بنیادیں ہل جائیں گی- بچوں کی معصوميت کو تار تار کیا جائے گا اور اس انسان کی عزت وشرافت کو پامال کیا جائے گا جسے اللہ رب العزت نے محترم بنایا ہے اور ہر صورت میں اس پر ظلم کو حرام قرار دیا ہے-