تیل کی پیداوار میں کمی کرنے کے سلسلہ میں "اوپیک” کا ایک استثنائی معاہدہ
3 ممالک شامل نہیں اور مثبت رد عمل کی وجہ سے فی بیرل تیل کی قیمت 50ڈالر سے زیادہ وینا: "الشرق الاوسط” ایک دن میں تیل کی پیداوار کی حد 32.5 لاکھ متعین کرنے کے لئے کل وینا میں (اوپیک) ممالک نے تیل کی پیداوار میں کمی کرتے ہوئے ایک دن میں […]
3 ممالک شامل نہیں اور مثبت رد عمل کی وجہ سے فی بیرل تیل کی قیمت 50ڈالر سے زیادہ

وینا: "الشرق الاوسط”
ایک دن میں تیل کی پیداوار کی حد 32.5 لاکھ متعین کرنے کے لئے کل وینا میں (اوپیک) ممالک نے تیل کی پیداوار میں کمی کرتے ہوئے ایک دن میں 1.2 لاکھ بیرل نکالنے پر اتفاق کیا ہے جبکہ توقعات کے برعکس آٹھ سال میں تنظیم کی طرف سے یہ پہلا اقدام ہےاور تیل کی قیمتوں کے سلسلے میں گفتگو اس فیصلے کے ساتھ ہوئی تھی جس کے بارے میں (اوپیک) کے موجودہ صدر اور قطر کے وزیر پٹرول محمد السادہ نے کہا تھا کہ مارکیٹ کے توازن کو بحال کرنے اور ذخیرہ کو کم کرنے کے لئے یہ ایک تاریخی موقعہ ہے، تیل کی قیمت میں 8 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہوچکا ہے اور تیل کی قیمت فی بیرل 50 ڈالر سے 51 ڈالر ہو گئی ہے۔
اس معاہدہ کا نفاذ آئندہ یکم جنوری کو ہوگا، اس کے بعد تنظیم ایک نگرانی اور وزارتی کمیٹی کے قیام کے ذریعہ ممالک کی نئی سطح کا تعین کرے گی، اس کمیٹی کی رکنیت کویت، وینزویلا اور الجزائر کو حاصل ہوگی اور ان کی ذمہ داری معاہدہ کے مطابق کام کرنے والے ممالک کی نگرانی ہوگی۔
رکن ممالک کے درمیان "اوپیک” معاہدہ کے مطابق سعودی عرب پر کافی وزن ہوگا کیونکہ اسے ایک دن میں 10.5 لاکھ بیرل کی پیداوار کم کر کے ایک دن میں 10 لاکھ بیرل کی پیداوار کرنی ہوگی اور یہ بھی طے ہے کہ ایران کی پیداوار ایک دن میں3,975لاکھ بیرل کی سطح پر آکر منجمد ہو جائیگی۔
اس کے جواب میں سعودی وزیر تیل خالد فالح نے کہا: "ہم متفقہ کمی پر کاربند ہیں اور تمام ممالک برابر مقدار میں شریک ہیں جبکہ تین ملکوں (لیبیا، نائجیریا اور ایران) کو خصوصی رعایت حاصل ہے۔