"القائم” نامی شہر پر بمباری کے دوران دسیوں افراد کے ہلاک ہونے پر عراق میں افراتفری

بغداد: "الشرق الاوسط” ملک میں بڑے پیمانے پر تنازعہ کی وجہ سے شامی سرحد کے قریب واقع "القائم” نامی عراقی شہر پر کئے گئے فضائی حملوں میں تقریبا 60 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔ عراقی پارلیمنٹ کے اسپیکر "سلیم الجبوری” نے فوری طور [&hell

"القائم”  نامی شہر پر بمباری کے دوران دسیوں افراد کے ہلاک ہونے پر عراق میں افراتفری
%d8%b9%d8%b1%d8%a7%d9%82

بغداد: "الشرق الاوسط”

ملک میں بڑے پیمانے پر تنازعہ کی وجہ سے شامی سرحد کے قریب واقع "القائم” نامی عراقی شہر پر کئے گئے فضائی حملوں میں تقریبا 60 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔

عراقی پارلیمنٹ کے اسپیکر "سلیم الجبوری”  نے فوری طور پر اس معاملہ کی تحقیق کرنے کا مطالبہ یہ کہتے ہوئے کیا ہے کہ ان حملوں میں شہر کے بازاروں کو  نشانہ بنایا گیا ہے جس میں دسیوں افراد ہلاک ہوئے اور بہت سے زخمی ہوئے ہیں، اسی طرح انہوں نے  ان حملوں کے ذمہ دار افراد کو سزا  دیئے جانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

دوسری طرف جوائنٹ سپیشل آپریشنز کمانڈ نے ایک بیان میں اس بات کی تصدیق کی کہ  ایئر فورس کے طیاروں نے "القائم” نامی شہر پر حملہ کیا ہے لیکن بعض سیاستدانوں کی طرف سے شہریوں کے ہلاک ہونے کی بیان کردہ خبر تنظیم داعش کا پروپیگنڈہ ہے ۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ عراقی ائیر فورس کے طیاروں کا مقصد دہشت گردوں کے دومنزلہ مکان پر حملہ کرنا تھا جس میں ان کے 25 غیر ملکی خود کش دہشت گرد چھپے ہوئے تھے جن کا ذمہ دار” ابو میسرہ قوقازی” ہے۔

اس کے جواب میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی قیادت میں اتحاد کے ایک ترجمان نے داعش کے خلاف جنگ کرنے میں عراقی فورسز کی حمایت کرنے کی تردید کی ہے اور کہا کہ اتحادی افواج نے "القائم” نامی شہر پر کسی بھی طرح کا کوئی حملہ نہیں کیا ہے۔