برطانوی پولیس کو اخلاقی گراوٹ سے شرمندگی کا سامنا
لندن: نجلاء حبریری کل برطانیہ میں رائل جانچ کمیشن نے پولیس سے متعلق ایک چونکا دینے والی رپورٹ جاری کی جس میں جنسی استحصال کے مقدمات میں سینکڑوں پولیس افسران کے ملوث ہونے کا افسوسناک انکشاف کیا گیا۔ رپورٹ میں 300 سے زائد پولیس افسران پر شبہہ ہے کہ انہوں نے […]

لندن: نجلاء حبریری
کل برطانیہ میں رائل جانچ کمیشن نے پولیس سے متعلق ایک چونکا دینے والی رپورٹ جاری کی جس میں جنسی استحصال کے مقدمات میں سینکڑوں پولیس افسران کے ملوث ہونے کا افسوسناک انکشاف کیا گیا۔ رپورٹ میں 300 سے زائد پولیس افسران پر شبہہ ہے کہ انہوں نے اپنے عہدے کا استعمال کرتے ہوئے ان لوگوں کا جنسی استحصال کیا جو جرائم میں ملوث تھے۔ کمیشن نے یہ رپورٹ "ٹریزا مای” کی سربراہی میں وزارت امور داخلہ کی جانب سےسال رواں کی ابتدا میں دی گئی درخواست کے جواب میں جاری کی ہے ۔
اس مسئلے كے بارے ميں ايكـ سوال کا جواب دیتے ہوئے کل جانچ کمیٹی کی خاتون ترجمان نے "الشرق الاوسط” سے کہا: "اس میں کوئی شک نہیں کہ اس مسئلہ کی وسعت رپورٹ میں لکھے گئے اعداد وشمار سے کہیں زیادہ ہے”۔ جیسا کہ کمیشن کی رپورٹ میں بیان کیا گیا ہے کہ 306 افسران سمیت پولیس کے دیگر افراد جنسی استحصال کے 436 مقدمات میں ملوث تھے۔ اسی طرح یہ رپورٹ الزامات کے 40 فیصد گھریلو اخلاقى برائيوں کے شکار ہونے، مشكوكـ افراد کی گرفتاری اور شراب نوشى وغيره کی عادت میں مبتلا لوگوں پر شامل ہے۔