یمن کو استعمال کرتے ہوئے سعودی عرب کو نشانہ بنانے کی ہم ہرگز اجازت نہیں دیں گے: خادم حرمین
اقتصادی بحران پر مملکت کے قابو پانے کی صلاحیت پر یقین دہانی – انتہا پسندی اور غلو کی جانب بلانے والوں کو دھمکی ریاض: نایف الراشد خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز نے سعودی عرب اور خطے کی سلامتی کو نشانہ بنانے کے لئے کسی بھی ملک یا تنظیم کی طرف سے […]
اقتصادی بحران پر مملکت کے قابو پانے کی صلاحیت پر یقین دہانی – انتہا پسندی اور غلو کی جانب بلانے والوں کو دھمکی

ریاض: نایف الراشد
خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز نے سعودی عرب اور خطے کی سلامتی کو نشانہ بنانے کے لئے کسی بھی ملک یا تنظیم کی طرف سے یمن کو استعمال کرنے کو مسترد کیا ہے۔
شاہ سلمان نے سعودی شوری کمیٹی کے ساتویں راؤنڈ کے پہلے سال کے افتتاحیہ خطاب کے دوران کہا کہ، سعودی عرب "یمن کی سیکورٹی کو عزیز ہمسایہ ہونے کے ناطے مملکت کی سیکورٹی سے تعبیر کرتا ہے”، انہوں نے مزید کہا کہ "اس کے داخلی امور میں مداخلت کو، یا اس کی جائز حکومت پر اثر انداز ہونے کو، یا کسی ملک وجماعت کی جانب سے اسے اپنا ٹھکانہ یا گزرگاہ بناتے ہوئے مملکت سعودیہ یا خطے کی سلامتی واستقرار کو نشانہ بنانے کو ہم کسی صورت برداشت نہیں کریں گے”۔ انہوں نے یمن میں سیاسی حل کی خاطر اقوام متحدہ کی جانب سے سلامتی کونسل کی قرارداد "2216” کے مطابق کی جانے والی کوششوں، خلیجی پہل کاری اور یمنی قومی ڈائیلاگ کے نتائج کی کامیابی پر امید کا اظہار کیا۔
شاہ سلمان نے کہا کہ "بین الاقوامی بحرانوں کے سیاسی حل، عوام کی سلامتی کی جانب خواہشات کے حصول کی بہترین مثال ہیں اور اسی سے ترقی کا حصول بھی ممکن ہے”۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب دنیا کے امن کے لئے عالمی برادری کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا اور رواداری وبقائے باہمی کی اقدار کو مضبوط بنانے کے لئے عوامی کردار کو فروغ دیتا رہے گا۔
اسی طرح شاہ سلمان نے دین میں غلو یا انتہا پسندی کا مطالبہ کرنے والوں کو دھمکی آمیز لہجہ میں باور کرایا کہ سعودیہ اپنے مضبوط ارادے کے ساتھ چیلنجوں کو اپنانے کے لئے مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔
معاشی تناظر میں خادم حرمین شریفین نے اس بات پر بھرپور زور دیا کہ دنیا کو درپیش حالیہ معاشی بحران سے سعودی عرب نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے، انہوں نے یقین دہانی کی کہ مملکت اس بحران سے ایک مضبوط اور بہتر معیشت کے ساتھ نکل آئے گی۔ شاہ سلمان نے کہا کہ "گذشتہ دو سالوں کے دوران ہمیں معاشی اقدامات اوراس کے ڈھانچے میں اصلاح کے حالات کا سامنا تھا جس کے دوران وسائل کی منصفانی تقسیم کے ذریعے معاشی ترقی اور روزگار پیدا کرنے کے مواقع فراہم ہوتے ہیں”، انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ "سعودی وژن 2030” ریاستی اداروں کی کارکردگی میں اضافہ اور ایک مہذب زندگی بسر کرنے کے ہدف سے تعبیر ہے۔