"امریکی مرکزی بنک” کا شرح سود میں اضافہ اور تیل وسونے کی قیمتوں میں کمی
لندن: "الشرق الاوسط” امریکی مرکزی بنک نے کل بروز بدھ اعلان کیا ہے کہ اس کی کلیدی شرح سود ایک چوتھائی پوائنٹ کے تناسب سے بلند ہوئی ہے، اسی طرح بنکوں میں 50٫0 سے 75٫0 فیصد کے مابین شرح سود کے لئے کاروباری مارکیٹ میں بہتری کی وجہ سے زر کی مارکیٹ میں […]

لندن: "الشرق الاوسط”
امریکی مرکزی بنک نے کل بروز بدھ اعلان کیا ہے کہ اس کی کلیدی شرح سود ایک چوتھائی پوائنٹ کے تناسب سے بلند ہوئی ہے، اسی طرح بنکوں میں 50٫0 سے 75٫0 فیصد کے مابین شرح سود کے لئے کاروباری مارکیٹ میں بہتری کی وجہ سے زر کی مارکیٹ میں بھی بہتری کی امید کی گئی۔ یہ 10 سالوں میں اپنی نوعیت کا دوسری بار اضافہ ہے اور ڈونالڈ ٹرامپ کے منتخب ہونے کے بعد پہلی بار ایسا ہوا ہے۔
امریکی مرکزی بنک کی جانب سے جاری بیان میں وضاحت کی گئی ہے کہ "موجودہ حالات اور متوقع کاروباری مارکیٹ اور افراط زر کے پیش نظر مالیاتی کمیٹی نے فیڈرل کیپیٹل کے شرح سود میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے”، بار دیگر یاد رہے کہ مانیٹرنگ پالیسی لچکدار رہے گی اور مستقبل میں اضافے بتدریج ہوں گے۔
امریکی مرکزی بنک کے اعلان کے فوری بعد ڈالر کے اضافہ کے ساتھ تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زائد کی کمی واقع ہوئی، اسی طرح سابقہ 10 ماہ سے زائد عرصہ کے دوران سونا بھی اپنی کم ترین سطح تک گر گیا.