ایران پر امریکی پابندیوں کی توسیع کا تنفیذی عمل شروع
"ایٹمی سمجھوتہ” پر از سر نو تنازعات واشنگٹن: ہبہ القدسي – لندن: "الشرق الاوسط” کل امریکی صدر باراک اوباما نے ایران پر پابندیاں لگانے میں توسیع کی اجازت دے دی مگر اچانک انہوں اس مسودہ قانون پر دستخط کو مسترد کر دیا جس کے ذریعے اس پر عمل ہونا تھا، امریکی صدر کی
"ایٹمی سمجھوتہ” پر از سر نو تنازعات

واشنگٹن: ہبہ القدسي – لندن: "الشرق الاوسط”
کل امریکی صدر باراک اوباما نے ایران پر پابندیاں لگانے میں توسیع کی اجازت دے دی مگر اچانک انہوں اس مسودہ قانون پر دستخط کو مسترد کر دیا جس کے ذریعے اس پر عمل ہونا تھا، امریکی صدر کی طرف سے دستخط کی توقع کی جارہی تھی لیکن اس مسودہ قرارداد کی منظوری کے لئے مقررہ علامتی ڈیڈ لائن؛ جو کہ نصف شب تک تھی وہ اس سے تجاوز کر گئے، جس سے ظاہر ہوا کہ یہ کام اتنا اہم نہیں ہے؛ یعنی ایران پر مزید دس سالوں کے لئے پابندی عائد کرنے کا قانون اپنی حتمی شکل اختیار کر چکا ہے۔ واشنگٹن کے سرکاری ترجمان "جوش آرنسٹ” نے کل اپنے بیان میں کہا کہ "ایران پر پابندیاں عائد کرنے کا بل صدر کے دستخط کے بغیر ہی قانون بن چکا ہے”۔
تہران میں، قومی سلامتی وخارجہ پالیسی کی کمیٹی کے سرکاری ترجمان حسین نقوی حسینی نے جواب میں کہا کہ واشنگٹن کی طرف سے تعزیراتی قانون کی ابتدا اس "جوہری سمجھوتے کی خلاف ورزی” ہے جو تہران نے 5 +1 گروپ کے ساتھ کیا تھا، انہوں نے مزید کہا کہ "ان امریکی پابندیوں کو سمجھوتہ کے خلاف نئی جوہری پابندیاں شمار کیا جائے گا "۔
دریں اثناء امریکی وزیر خارجہ "جون کیری” نے اپنے ملک کے ایک اسٹریٹجک مقصد کے طور پر ایران سے متعلق "جوہری معاہدہ” پر عمل درآمد کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کل اپنے بیان میں کہا کہ ایران کے ساتھ کئے گئے جوہری معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنانا اور جامع مشترکہ ایکشن پلان دونوں ہی ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور پوری دنیا میں اس کے اتحادیوں کے اہم اسٹریٹجک مقصد کی نمائندگی کرتے ہیں، ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور پوری دنیا اس بات سے محفوظ تر ہو جایں گے کہ ایران جوہری ہتھیار تیار نہیں کر سکتا ۔
دوسری جانب، یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی کوآرڈینیٹر "ویدریکا موگیرینی” نے کل "وال سٹریٹ میگزین” سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "نومنتخب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ کے ایران سے متعلق جوہری سمجھوتے سے نکلنے کے امکانات پائے جاتے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاملہ ٹرامپ اور روس کے صدر ولادیمیر پوٹن کے مابین ممکنہ تصادم کی وجہ سے ہو سکتا ہے کیونکہ انہوں نے سمجھوتہ کرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔