لبنان: قائم مقام حکومت – سیکورٹی میں مضبوطی اور معیشت میں حرکت
بیروت: "الشرق الاوسط” کل شام بیروت میں لبنان کے نئے دور کی پہلی حکومت نے صدر میشال عون کی سربراہی میں اعلان کیا جس پر وزیر اعظم سعد الحریری نے اس سے متعلق بہت زیادہ امیدوں کے وابسطہ ہونے کے سبب تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا اورآئندہ سال کے […]

بیروت: "الشرق الاوسط”
کل شام بیروت میں لبنان کے نئے دور کی پہلی حکومت نے صدر میشال عون کی سربراہی میں اعلان کیا جس پر وزیر اعظم سعد الحریری نے اس سے متعلق بہت زیادہ امیدوں کے وابسطہ ہونے کے سبب تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا اورآئندہ سال کے وسط میں پارلیمانی انتخابات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اسے "قائم مقام حکومت” قرار دیا۔ مگر اس کے باوجود انہوں نے اسے کئی ایک عنوانات دیئے جن میں سر فہرست اندرون ملک سیکورٹی کی مضبوطی، ملکی معاشی پہیے کو حرکت دی جو ڈیڑھ سے دو سال ایوان صدر کے خلا کی وجہ سے متاثر ہوئے۔
وزارتی کابینہ کی تشکیل کے لئے 30 نشستیں مختص کی گئیں ہیں، جبکہ الحریری کو ریاست کے چھ وزراء نامزد کرنے پر مجبور کیا گیا۔ الحریری نے تشکیل کے اعلان کے بعد اپنے خطاب میں زور دیا کہ "ان کی حکومت اپنی مختصر مدت کے دوران قابل اصلاح امور میں حتی المقدور فوری اصلاح کی کوشش کرے گی، جن میں سرفہرست تیل اور بجلی کی مشکلات ہیں۔ جبکہ سیاسی اعتبار سے اس کا پہلا ہدف یہ ہے کہ ایوان نمائندگان کے تعاون سے نئے انتخابی قانون تک رسائی حاصل کی جائے جو مقررہ وقت پر پارلیمانی انتخابات کے انعقاد اور شرح تناسب کی حفاظت کرے چنانچہ اس تناظر میں یہ حکومت قائم مقام (یا انتخابی) حکومت ہے۔