حلب کے انتقام میں ایک ترکی پولس کے ہاتھوں روس کے سفیر ہلاک
انقرہ: سعید عبد الرزاق ایک ترکی پولس نے حلب کے انتقام میں جہادی زبان استعمال کرتے ہوئے روس کے سفیر کو اس وقت ہلاک کر دیا جب وہ ترکی کی دار الحکومت میں ایک فنی سمپوزیم میں شریک ہونے کے لئے تشریف لائے تھے۔ انقرہ شہر کے صدر ملیح […]

انقرہ: سعید عبد الرزاق
ایک ترکی پولس نے حلب کے انتقام میں جہادی زبان استعمال کرتے ہوئے روس کے سفیر کو اس وقت ہلاک کر دیا جب وہ ترکی کی دار الحکومت میں ایک فنی سمپوزیم میں شریک ہونے کے لئے تشریف لائے تھے۔
انقرہ شہر کے صدر ملیح گوشتشیک نے کہا کہ جس شخص نے کارلوف پر گولی چلائی ہے وہ پولس کا ایک فرد تھا۔ بنی شفق نامی ایک سرکاری میگزین نے بتایا کہ قاتل بلوا پولیس کا ایک رکن تھا ۔
اسی کے ساتھ ساتھ انقرہ میں موجود "حرییٹ” نامی سرکاری میگزین کے نامہ نگار نے فرانسیسی خبررساں ایجنسی کو بتایا کہ کارلوف کے تقریر کرنے کے دوران پولس کے کپڑے میں ملبوس ایک شخص نے ہوائی فائرنگ کی پھر اس نے سفیر کو نشانہ بنایا اور انہوں نے مزید کہا کہ وہ حلب اور انتقام کے متعلق کچھ کہ رہا تھا۔
ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے پرزور انداز میں کہا کہ انہوں نے اپنے روسی ہم منصب بلادیمیر پوٹن کے ساتھ مل کر روسی سفیر کے قتل کی تحقیق کے لئے ایک مشترک کمیٹی تشکیل دینے کا اتفاق کیا ہے۔
سرکاری "اناضول” نامی خبر رساں ایجنسی نے بتایا کہ پولس سے گولی چلانے والے سے متعلق سوال کئے جانے سے پر کوئی وضاحت نہیں ملی کیا وہ زندہ ہے یا اسے ہلاک کر دیا گیا۔