بین الاقوامی سلامتی کونسل کی طرف سے دو مبصرین کا انتخاب اور پیرس ماسکو کی مشق سے پریشان
ماسکو: طہ عبد الواحد جب بین الاقوامی سلامتی کونسل نے متفقہ طور پرحلب سے شہریوں اور اپوزیشن فورسز کے نکلنے کی نگرانی کے لئے دو مبصرین کو بھیجنے سے متعلق فرانسیسی ترمیم شدہ قرارداد کے مسودے ہو منظور کر لیا تو فرانسیسی ذرائع نے روسی مشق سے متعلق اپنے خوف کا اظہار […]

ماسکو: طہ عبد الواحد
جب بین الاقوامی سلامتی کونسل نے متفقہ طور پرحلب سے شہریوں اور اپوزیشن فورسز کے نکلنے کی نگرانی کے لئے دو مبصرین کو بھیجنے سے متعلق فرانسیسی ترمیم شدہ قرارداد کے مسودے ہو منظور کر لیا تو فرانسیسی ذرائع نے روسی مشق سے متعلق اپنے خوف کا اظہار کیا
یہ خو دو چیزوں میں مضمر ہے۔ ایک یہ کہ روس اور شامی حکومت اپنے ہمنواؤں کے ساتھ آئندہ کسی بھی مذاکرات میں اپوزیشن کو کنارہ لگانے کے لئے حلب کے زوال اور اپنی کامیابی کا فائدہ اٹھائیں گے تاکہ اس سے ماسکو کے اعتراضات کا فائدہ ہو اور شامی حکومت اسے قبول کرلے۔ دسرا خوف یہ ہے کہ
2012 میں جنیوا کے بیان اور بین الاقوامی قرارداد نمبر 2254 سے دور مذاکرات کے لئے نئی مرجعیت کے سلسلہ میں ماسکو کی نیت کے شکوک و شبہات کےارد گرد گھومتا ہے۔
اس کے علاوہ سعودی کابینہ نے خادم حرمین شریفین کی صدارت میں منعقدہ کل کے اجلاس میں ملک میں بڑھتے ہوئے واقعات سے متعلق عرب اور بین الاقوامی کوششوں کا جائزہ لیا اور ثقافت اور میڈیا کے وزیر نے کہا کہ کونسل نے ان جرائم کو انسانیت کے خلاف جنگ کے مترادف قرار دیا ہے۔