شامی بحران کی وجہ سے ایران اور حماس کے درمیان سخت اختلافات

لندن: عادل السالمی بگڑتے تعلقات کو بحال کرنے کے لئے ایران اور حماس کی طرف سے کی جانے والی کوششوں کے باوجود ایرانی قومی سلامتی اورخارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن حشمت اللہ فلاحت بےشا نے خاص طور پر حلب کی صورتحال سے متعلق تحریک کے قائدین کے موقف کے سلسلہ میں شک […]

شامی بحران کی وجہ سے ایران اور حماس کے درمیان سخت اختلافات
%d8%b4%d8%a7%d9%85

لندن: عادل السالمی

بگڑتے تعلقات کو بحال کرنے کے لئے ایران اور حماس کی طرف سے کی جانے والی کوششوں کے باوجود ایرانی قومی سلامتی اورخارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن حشمت اللہ فلاحت بےشا نے خاص طور پر حلب کی  صورتحال سے متعلق تحریک کے قائدین کے موقف کے سلسلہ میں شک وشبہ پر سخت اختلافات اور تہران کے غضب کا انکشاف کیا ہے۔

ایرانی عہدیدار کے تبصرے کے مطابق  ایران اور تحریک حماس کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہی جا رہی ہے جبکہ حال ہی میں دونوں فریقوں نے کشیدگی کی تردید کی تھی۔

ایران کے لئے پریشان کن بات یہ ہے کہ حماس "مزاحمت”  فرنٹ کی قیادت کا دعویدار ہے  جس کی وجہ سے عرب ممالک کے امور میں مداخلت کرنے کے لئے قانون بنانے کی کوشش میں ایک بنیادی  ذریعہ کی تشکیل ہوئی ہے۔

فلاحت بےشا  نے "قانون” نامی میگزین میں ایک انٹرویو کے دوران حماس پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ شامی اپوزیشن کے سایہ میں لڑنے والی دہشت گرد جماعتوں کی مسلسل مدد کر رہا ہے۔

اسی طرح انہوں نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئےکہا کہ اگر حماس ایران کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھنا چاہتا ہے تو شام کی صورت سے متعلق اپنے موقف سے رجوع کرے۔