متفقہ طور پر سلامتی کونسل کی طرف سے شام میں جنگ بندی کی حمایت

بیروت: کیرولین عاکوم متفقہ طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کل شام میں مذاکرات اور فائر بندی کے لئے روسی – ترکی منصوبہ کی حمایت میں فیصلہ صادر کیا ہے لیکن اس کی تمام تفصیلات کو منظور نہیں کیا ہے۔ بند کمرے میں مشوروں کے […]

متفقہ طور پر سلامتی کونسل کی طرف سے شام میں جنگ بندی کی حمایت
1

بیروت: کیرولین عاکوم

متفقہ طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کل شام میں مذاکرات اور فائر بندی کے لئے  روسی – ترکی منصوبہ کی حمایت میں فیصلہ صادر کیا ہے لیکن اس کی تمام تفصیلات کو منظور نہیں کیا ہے۔

بند کمرے میں مشوروں کے بعد ہوئے فیصلہ میں اس بات کا ذکر ہے کہ کونسل ماسکو اور انقرہ کی طرف سے کی جانے والی امن وسلامتی کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے اور اس کا خیر مقدم کرتا ہے ،  اسی طرح  وہ گزشتہ سال 29 دسمبر کو ہویے معاہدہ کی کمان بھی سنبھالتا ہے۔

کل کی طرح دوسرے دن بھی شام کے زیادہ تر علاقوں میں جنگ بندی کی فضا قائم رہی لیکن پھر بھی دسیوں خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں ہیں، خاص طور پر ریف دمشق کے درعا اور  وادی برادا  کے علاقوں میں بہت زیادہ خلاف ورزیاں ہوئی ہیں جبکہ حزب اختلاف  نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت کی طرف سے معاہدہ کی خلاف ورزیاں جاری رہیں تو اس معاہدہ کو منسوخ کر دیا جائے گا۔ اسی طرح حزب اختلاف  نے وادیئ برادا کے علاقہ میں حکومت اور "حزب اللہ” کی طرف سے کی جانے والی قتل عام سے خبر دار کیا ہے۔

دوسری طرف شام میں حل کی ترجیحات کے سلسلہ میں ترکی – ایرانی اختلافات تہران کے لئے پریشان کن جنگ بندی کے معاہدہ کے حق میں ایک رکاوٹ ہے، خاص طور پر جب  اس نے فوجی حل کے رجحان کو ختم کر دیا ہے  اور اسی طرح اس نے شام میں اپنے اثر و رسوخ کو کم کردیا ہے۔

اسی پریشانی کی وجہ سے  ایران نے کل معاہدہ  کے سلسلہ میں گفتگو کی غرض سے شام کے وزیر خارجہ ولید معلم کو فوری ملاقات کے لیے تہران بلایا  اور  یاد رہے کہ اس معاہدہ سے متعلق گفتگو کرنے اور ایک ہی وقت میں شامی حکومت پر مرتب ہونے والے اس کے اثرات اور ایرانی کردار پر تبادلۂ خیال کرنے کے لیے ان دونوں ملکوں کو دعوت نہیں دی گئی تھی۔