بشپ کبوجی کی جلا وطنی کے دوران اٹلی میں وفات
انہیں سنہ 1978 کے قبضے کے دوران نکالا گیا تھا، عباس نے انہیں "عظیم حریت پسند” قرار دیا لندن – رام الله: "الشرق الاوسط” کل اطالوی دارالحکومت روما میں بشپ ہیلاریون کبوجی کی وفات پر فلسطینیوں نے افسوس کا اظہار کیا۔ جو سنہ 1978ء میں اسرائیلی حکام کی جانب [&he
انہیں سنہ 1978 کے قبضے کے دوران نکالا گیا تھا، عباس نے انہیں "عظیم حریت پسند” قرار دیا

لندن – رام الله: "الشرق الاوسط”
کل اطالوی دارالحکومت روما میں بشپ ہیلاریون کبوجی کی وفات پر فلسطینیوں نے افسوس کا اظہار کیا۔ جو سنہ 1978ء میں اسرائیلی حکام کی جانب سے فلسطینی علاقوں سے ملک بدر کئے جانے کے بعد روما میں مقیم تھے۔
فلسطینی صدر محمود عباس نے فلسطینی سرکاری اخباری ذرائع (وفا) کو اپنا بیان دیتے ہوئے وفات پانے والے بشپ کو "عظیم حریت پسند” قرار دیا۔
فلسطینی سرکاری ترجمان "یوسف المحمود” نے اپنے بیان میں کہا "وفات پانے والے بشپ کبوجی نے تمام فلسطینیوں کے دلوں میں گہرا صدمہ چھوڑا ہے، جو کہ بشپ کی جدوجہد سے بھرپور زندگی اور ان کی جانب سے فلسطینی عوام کے دفاع اور فلسطینی قضیہ میں اپنائے گئے قومی مؤقف کی وجہ سے ہے۔
تحریک فتح؛ جس کے رہنما صدر محمود عباس ہیں، نے کہا ہے کہ بشپ کبوجی ان کے رہنماؤں میں سے ایک تھے۔ تحریک کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ "ہم فلسطینی عوام، عرب قوم اور آزاد دنیا سے فتح کے قائد وہیرو بشپ کبوجی کی وفات پر تعزیت کرتے ہیں جنہوں نے فلسطینی عوام کا حقیقی معنوں میں فولادی انداز کے ساتھ دفاع کرتے ہوئے جدوجہد سے بھرپور اپنی زندگی گزاری”۔
فرانسیسی اخباری ایجنسی نے تحریک حماس کے سیاسی بیورو کے رکن عزت الرشق کے "ٹویٹر” پر دیئے گئے بیان کو نقل کیا: "آج (کل) اٹلی کے دارالحکومت روما میں بشپ ہیلاریون کبوجی کی وفات سے فلسطین نے ایک عظیم سپاہی کھو دیا ہے جو ہماری عوام اور ان کے منصفانہ حقوق کی حمایت میں کھڑا تھا اور جس نے اپنے اس جرأت مندانہ مؤقف کی قیمت بھی ادا کی”۔
بشپ کبوجی سنہ 1922ء میں حلب شہر میں پیدا ہوئے اور وہ سنہ 1965ء سے قدس میں رومن کیتھولک چرچ کے بشپ تھے۔ اسرائیلی حکام نے انہیں سنہ 1974ء میں گرفتار کر کے 12 سال قید کی سزا سنائی اور پھر سنہ 1978ء میں جلا وطن کر دیا گیا۔ انہوں نے اپنی وفات تک جلا وطنی کی زندگی روما شہر میں گزاری۔