فلسطینی کے قاتل فوجی کو سزا سنائے جانے کے بعد اسرائیل نظریاتی اعتبار سے تقسیم

تل ابیب: نظیر مجلی ایک اسرائیلی فوجی ایلوور ازاریا کو عبد الفتاح شریف نامی فلسطینی نوجوان؛ جو کہ زخمی حالت میں زمین پر پڑا تھا، اس کو قتل کرنے کے جرم میں تل ابیب کی فوجی عدالت کی طرف سے فیصلہ صادر ہونے کے فورا بعد ہی اسرائیلی دائیں بازو کی جماعتوں کے رہنماؤں […]

فلسطینی کے قاتل فوجی کو سزا سنائے جانے کے بعد اسرائیل نظریاتی اعتبار سے تقسیم
bcvdfeterkfjghgnbufghgodhfgkdbcjmxhserwsfg

تل ابیب: نظیر مجلی

ایک اسرائیلی فوجی ایلوور ازاریا کو عبد الفتاح شریف نامی فلسطینی نوجوان؛ جو کہ زخمی حالت میں زمین پر پڑا تھا، اس کو قتل کرنے کے جرم میں تل ابیب کی فوجی عدالت کی طرف سے فیصلہ صادر ہونے کے فورا بعد ہی اسرائیلی دائیں بازو کی جماعتوں کے رہنماؤں نے اس فیصلہ پر آوازیں بلند کرنا شروع کر دیں۔ ان میں سرفہرست وزیراعظم بنیامین نتنیاہو ہیں، جنہوں نے چیف آف آرمی سٹاف سے اس فوجی کو معاف کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ جیل میں ایک دن بھی نہیں گزارے گا۔ نتنیاہو نے اپنے فیس بک کے اکاؤنٹ پر لکھا ہے کہ "آج کا دن ہم سب کے لئے درد ناک اور سخت ہے – میں خاص طور سے تمام عوام کو فوج اور عدالتی فیصلہ کے احترام کی دعوت دیتا ہوں اور میں آپ سب لوگوں کی طرف سے فوجی عدالت سے ازاریا کی معافی کا مطالبہ کرتا ہوں۔

اس فیصلہ پر اسرائیلی عوامی رائے حمایت اور مخالفت میں منقسم ہو چکی ہے۔ فلسطینی وزارت خارجہ نے اپنے جاری بیان میں کہا کہ انہوں نے مقدمے کی سماعت کو ایک مذاق سمجھا ہے۔ فلسطینی وزارت نے ایک فوجی کے خلاف سزا سنانے کی بجائے پوری مقبوضہ اتھارٹی کے خلاف مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ہے، جس نے انہیں فلسطینوں کے خلاف مشتعل کرنے اور ان کے خلاف درجنوں جرائم کے ارتکاب کرنے کی کوشش کی ہے”۔

کل تل ابیب میں اسرائیلی چیف آف آرمی سٹاف کی سربراہی میں فوجی عدالت نے ایک زخمی فلسطینی کو قتل کرنے کے جرم میں اسرائیلی فوجی کو سزا سنائی۔ مجرم کا دفاع کرنے والے افسران کی گواہی اور فراہم کردہ معلومات غیر معتبر اور حقیقت سے بعید قرار دی گئیں۔ چنانچہ اس کے خلاف سزا کا فیصلہ کیا گیا مگر پھر سزا سنانے کے عمل کو اگلی تاریخ تک ملتوی کر دیا گیا۔