"آستانہ” کی کانفرنس میں شرکت کے لئے شامی حزب اختلاف کی طرف سے چند شرائط

بیروت: كارولين عاكوم 23 جنوری کو قزاقستان کی دارالحکومت آستانہ میں منعقد ہونے والی کانفرنس میں شرکت کے لئے شامی حزب اختلاف نے کل انقرہ میں ترکی کے ساتھ ہوئی بات چیت کے دوران شرائط کے مسودہ کو پیش کیاہے۔ گزشتہ روز حزب اختلاف کی طرف سے […]

"آستانہ” کی کانفرنس میں شرکت کے لئے  شامی حزب اختلاف کی طرف سے چند شرائط
2

بیروت: كارولين عاكوم

23 جنوری کو قزاقستان کی دارالحکومت آستانہ میں منعقد ہونے والی کانفرنس میں شرکت کے لئے شامی حزب اختلاف نے کل انقرہ میں ترکی کے ساتھ ہوئی بات چیت کے دوران شرائط کے مسودہ کو پیش کیاہے۔

گزشتہ روز حزب اختلاف کی طرف سے منعقدہ ایک اجلاس میں طے شدہ شرائط میں بنیادی طور پر اس بات کا ذکر ہے کہ مکمل طور پر جنگ بندی کا نفاذ ہو،  پورے شام میں فائر بندی ہو اور اسی طرح مذاکرات میں حزب اختلاف کی سیاسی پارٹی کو شامل کیا جائے جبکہ اس سے قبل ماسکو کی کوشش یہ تھی کہ ایک ایسے فوجی وفد پر اکتفاء کیا جائے جس میں حزب اختلاف کے نمائندے شامل ہوں۔

آزاد آرمی  کے سیاسی بیورو کے ایک رکن زکریا ملاحفجي  نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ حزب اختلاف کی شرائط سے متعلق روس کی موافقت ہی آستانہ کی کانفرنس میں حزب اختلاف کی شرکت اور عدم شرکت کا حتمی فیصلہ کرے گی۔

انہوں نے "الشرق الاوسط” سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ مختلف سیاسی اور فوجی قوتوں سے تعلق رکھنے والے سو افراد نے حزب اختلاف اور اعلی اتھارٹی کے درمیان منعقدہ آستانہ کی کانفرنس میں حزب اختلاف کے وفد کو  شامل کئے جانے کی ضرورت پر اتفاق کیا ہے۔

متفقہ شخصیت کی صدارت میں جانبین کی طرف سے ایک وفد کی تشکیل دی جائے گی اور انقرہ کے اجلاس کے ایجنڈوں کی بنیاد ہی یہی ہے۔