ترکی کشمکش، یونان کی طرف سے قبرص گفتگو کو دھمکی
جنیوا: "الشرق الاوسط” کل ترکی اور یونانی متضاد بیانات نے اس بات کی اطلاع دی ہے کہ قبرص کے دونوں کناروں کو ایک کرنے کے لئے جنیوا میں گفتگو ہوئی لیکن کسی نتیجہ تک پہنچے بغیر اختتام پذیر ہوگئی۔ حکام کی بڑی تعداد نے نیک شگونی کا اظہار […]

جنیوا: "الشرق الاوسط”
کل ترکی اور یونانی متضاد بیانات نے اس بات کی اطلاع دی ہے کہ قبرص کے دونوں کناروں کو ایک کرنے کے لئے جنیوا میں گفتگو ہوئی لیکن کسی نتیجہ تک پہنچے بغیر اختتام پذیر ہوگئی۔
حکام کی بڑی تعداد نے نیک شگونی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی، یونانی، ترکی اور یورپی وزیر خارجہ کی موجودگی میں قبرصی صدر نیکوس اناستاسیادیس اور ترکی قبرصی رہنما مصطفی اکینجی کے مابین پانچ دن تک جاری مذاکرات کے بعد قبرص کے مسئلے کو حل کرنے کے سلسلہ میں امکانات ظاہر ہوئے ہیں لیکن کانفرنس کے اختتام کے بعد جاری ہونے والے بیانات نےاتفاق کے امکانات کی ساری امیدوں پر پانی پھیر دیا۔
فرانس پریس ایجنسی کے ذریعہ اس بات کی اطلاع ملی ہے کہ یونانی وزیر خارجہ نيكوس كوتزياس نے کہا کہ انصاف پر مبنی حل یہ ہے کہ قبرص کی سرزمین کو احتلال اور قابض افواج کے وجود سے پاک کیا جائے جبکہ اس سے قبل ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے یہ اعلان کیا تھا کہ ترکی کا قبرص سے اپنی فوج کو واپس بلا لینا ایک ناممکن بات ہے۔