عباس: سرحد کی حد بندی کے بعد امریکی سفارت خانہ کی منتقلی ممکن
راملہ: كفاح زبون فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں اگر بیت المقدس کی طرف امریکی سفارت خانہ کو منتقل کیا گیا تو یہ مسئلہ بہت ہی اشتعال انگیز ہوگا اور فلسطین کی عوام کی طرف سے سخت رد عمل کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔ اس میں […]

راملہ: كفاح زبون
فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں اگر بیت المقدس کی طرف امریکی سفارت خانہ کو منتقل کیا گیا تو یہ مسئلہ بہت ہی اشتعال انگیز ہوگا اور فلسطین کی عوام کی طرف سے سخت رد عمل کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ فلسطینی حکومت کے مسئلہ کو حل کرنے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کے مقدمہ کے طور پر اسرائیل کو ایک ملک کی حیثیت سے تسلیم کئے جانے کو ختم کر دیا جائے لیکن فلسطینی صدر نے فلسطین کی دار الحکومت مشرقی بیت المقدس کو حاصل کرنے کے بعد اس طرح کے اقدام کو قبول کرنے کی طرف اشارہ کیا ہے۔
عباس نے فلسطینی حکومت کے ایک پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ جب امن مذاکرات ہو جائیں گے تو ہر پارٹی اپنی سرحدوں کو جان لے گی اور ہم 1967 کی بنیاد پر اپنی سرحدوں کو جانتے ہیں جس میں فلسطین کی دارالحکومت مشرقی بیت المقدس شامل ہے۔ اس وقت ان لوگوں کو پہچان لیا چائے گا کہ وہ لوگ کیا چاہتے ہیں اور اس سے قبل سفارت خانہ منتقل کرنے کا مسئلہ صرف اشتعال انگیز ہی نہیں ہوگا بلکہ اس سے بھی زیادہ سنگین ہوگا۔