48 فلسطینیوں کے حقوق کے لئے اسرائیل کے ساتھ تعاون کرنے کے سلسلہ میں ایک یورپی اشارہ

تل ابیب: نظير مجلي یورپی یونین کمیشن کے سربراہ جین کلاؤڈ جنکر نے اسرائیلی حکومت کو عرب شہریوں یعنی 48 فلسطینیوں کے خلاف ظلم وزیادتی اور نسل پرستی پر مبنی اپنی پالیسی کو جاری رکھنے کی صورت میں پابندیوں کی دھمکی دی ہے۔ جنکر نے یہ بات […]

48 فلسطینیوں کے حقوق کے لئے اسرائیل کے ساتھ تعاون کرنے کے سلسلہ میں ایک یورپی اشارہ
2

تل ابیب: نظير مجلي

یورپی یونین کمیشن کے سربراہ جین کلاؤڈ جنکر نے اسرائیلی حکومت کو عرب شہریوں یعنی 48 فلسطینیوں کے خلاف ظلم وزیادتی اور نسل پرستی پر مبنی اپنی پالیسی کو جاری رکھنے کی صورت میں پابندیوں کی دھمکی دی ہے۔

جنکر نے یہ بات ام ہیران نامی گاؤں میں 15 گھروں کے منہدم کئے جانے کے بعد "القائمة المشتركة” نامی پارٹی کے ارکان کے ایک وفد کے ساتھ کی ہے۔ مذکورہ پارٹی میں تمام قومی عرب پارٹیاں شامل ہیں اور انہیں کنیسٹ یعنی "اسرائیلی پارلیمنٹ” میں 13 نشستوں کی نمائندگی حاصل ہے۔ وفد نے نیتن یاہو کی حکومت کی سرکاری پالیسی سے عربوں کے لئے ایک بین الاقوامی تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔

جنکر کا کہنا ہے کہ اسرائیل اقلیتوں کے حقوق کے سلسلہ میں یورپی معاہدہ پر دستخط کرنے سے گریز کر ہا ہے تاکہ وہ عرب شہریوں کے خلاف اپنے طرز عمل پر یورپی ممالک اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے سامنے جوابدہ نہ ہو سکے۔ جنکر نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ یورپی یونین سے اس بات کا مطالبہ کریں گے کہ وہ 20  فیصد عرب شہریوں کے حقوق کی ضمانت کے سلسلہ میں اسرائیل کے ساتھ تعاون کے معاہدوں کو ضروری قرار دینے کے امکان پر غور وخوض کرے۔

جنکر کے باخبر ذرائع نے ملاقات کے دوران ان کی گفتگو کو نقل کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ دنوں میں عرب شہریوں کے خلاف اسرائیلی طرز عمل  جنوبی افریقہ میں نسل پرست پالیسی کے مترادف ہے خواہ اس  طرز عمل  کا تعلق ام ہیران نامی گاؤں میں گھروں کو منہدم کر دینے سے ہو یا کنیسٹ  یعنی "اسرائیلی پارلیمنٹ” کے عرب ارکان کو نشانہ بنانے کے لئے قانون پاس کرنے سے ہو۔