سعودی عرب وژن اور دنیا کے ماہرین اقتصادیات
جمعہ 22ربيع الثانى 1438 ہجرى- 20 جنورى 2017ء شماره: (13933) ڈیووس: نجلاء حبريري وزیر توانائی خالد الفالح، وزیر خزانہ محمد الجدعان اور تجارت وسرمایہ کاری کے وزیر ماجد قصبی جیسے سعودیہ عرب کے تین وزراء نے ڈیووس میں منعقدہ عالمی اقتصادی فورم میں گفتگو کے دوران "سعودی عرب وژن” کو پ
جمعہ 22ربيع الثانى 1438 ہجرى- 20 جنورى 2017ء شماره: (13933)

ڈیووس: نجلاء حبريري
وزیر توانائی خالد الفالح، وزیر خزانہ محمد الجدعان اور تجارت وسرمایہ کاری کے وزیر ماجد قصبی جیسے سعودیہ عرب کے تین وزراء نے ڈیووس میں منعقدہ عالمی اقتصادی فورم میں گفتگو کے دوران "سعودی عرب وژن” کو پیش کیا ہے اور اس فورم میں "بلیک روک” کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسرلارنس فنک اور "ڈاؤ” کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اینڈریو لیوریس نے بھی شرکت کی تھی- یاد رہے کہ سعودیہ عرب نے "2030 کے وژن کا فیصلہ تیل کے شعبوں سے باہر نکل کر معیشت کو مضبوط بنانے کے لئے کیا ہے اور اس سلسلہ ميں بامقصد لائحۂ عمل کو مد نظر بھی رکھا ہے۔
اسی طرح بنیادی ڈھانچے، تعلیم، توانائی اور ان کے علاوہ دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع پر گفتگو کی گئی۔ فالح نے سعودی معیشت کی مضبوط بنیاد پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مشرق وسطی میں 6.1 ٹریلین سے زائد ریال کی مقامی پیداوار کے اعتبار سے سب سے بڑا ہے اور اس کے علاوہ 70 فیصد سعودیہ کے باشندوں کی عمر 25 سال سے زائد نہیں ہے جس کی وجہ سے سعودیہ عرب اپنے خاص شعبوں میں غیر معمولی پيداورى صلاحيت حاصل کر سکتا ہے۔
وزیر جدعان نے وژن کی تکمیل کے سلسلہ میں چار عوامل کی نشاندہی کی ہے ایک تو یہ کہ منصوبہ بندی کو زیادہ آمدنی پر مرکوز کیا جائے، کارکردگی کے انتظام میں اضافہ کیا جائے، سبسڈی اصلاحات کا اہتمام کیا جائے اور نجی شعبوں کی حمایت اور ان کو مؤثر بنایا جائے۔