یمنی باغیوں پر 10 ہزار بچوں کو بھرتی کرنے کا الزام
اتوار 24 ربيع الثانی 1438 ہجری 22 جنوری 2017 ء شمارہ: (13935) رياض: نايف الرشيد یمنی حکومت نے حوثی اور سابق صدر علی عبد اللہ صالح کی باغی ملیشیاؤں پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے انسانی اصولوں کی واضح خلاف ورزی کرتے ہوئے تقریبا 10 ہزار بچوں کو بھرتی کیا […]
اتوار 24 ربيع الثانی 1438 ہجری 22 جنوری 2017 ء شمارہ: (13935)

رياض: نايف الرشيد
یمنی حکومت نے حوثی اور سابق صدر علی عبد اللہ صالح کی باغی ملیشیاؤں پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے انسانی اصولوں کی واضح خلاف ورزی کرتے ہوئے تقریبا 10 ہزار بچوں کو بھرتی کیا ہے۔
انسانی حقوق کی وزارت کے سیکرٹری نبیل عبد الحفیظ نے کل عدن سے "الشرق الاوسط” سے رابطے کے دوران کہا کہ صالح کی باغی ملیشیاؤں میں بھرتی کئے گئے بچوں کی تعداد کے بارے میں وزارت کے اعداد وشمار کے مطابق تقریبا 10 ہزار بچوں کو انہوں نے بھرتی کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ باغی فورسز بچوں کے ساتھ مسلح گروہوں اور جماعتوں کی صورت میں برتاؤ کر رہی ہیں۔ اس دوران انسانی حقوق کی وزارت نے دیکھا کہ یہ باغی فورسز ان بچوں کو زندگی کے سادہ ترین پہلوؤں پر بھی ہراساں کرتے ہیں، جبکہ ایسا کام کبھی انسانوں کی طرف سے نہیں کیا جا سکتا۔