ایرانی "عدم استحکام” کا سامنا کرنے کے لئے سعودی – امریکی اتفاق
شاہ سلمان اور ٹرمپ کا انسداد دہشت گردی پر زور – شام اور یمن میں "پرامن علاقہ” کے قیام کی حمایت پیر 3 جمادى الأولى 1438 ہجری 30 جنوری 2017 ء شمارہ: (13943) ریاض – واشنگٹن: "الشرق الاوسط” کل خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے [&hellip
شاہ سلمان اور ٹرمپ کا انسداد دہشت گردی پر زور – شام اور یمن میں "پرامن علاقہ” کے قیام کی حمایت
پیر 3 جمادى الأولى 1438 ہجری 30 جنوری 2017 ء شمارہ: (13943)

ریاض – واشنگٹن: "الشرق الاوسط”
کل خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ٹیلی فونک رابطے کے دوران خطے میں عدم استحکام کے ایرانی کردار کے حل پر زور دیا اور شام ویمن میں "پرامن علاقہ” کے قیام کی حمایت کی یقین دہانی کی۔
سعودی پریس ایجنسی (SPA) کے مطابق رابطے کے دوران دونوں رہنماؤں نے مختلف فائلوں پر تبادلۂ خیال کیا، جن میں انسداد دہشت گردی، انتہاپسندی، انہیں مالی امداد فراہم کرنے والے ذرائع اور ان کے لئے مناسب میکانیزم بنانے کےعلاوہ خطے کے امن و استقرار کو خراب کرنے اور دوسرے ممالک کے اندورنی معاملات میں دخل اندازی کی کوشش کرنے والوں کے خلاف کاروائی جیسے موضوعات شامل تھے۔
اسی طرح وائٹ ہاؤس نے اپنے بیان میں اعلان کیا ہے کہ خادم حرمین شریفین اور ٹرمپ نے "خطے کو غیر مستحکم کرنے کی ایرانی سرگرمیوں کا حل کرنے کی ضرورت” پر اتفاق کیا، اسی طرح "شام اور یمن میں پرامن علاقے کے قیام کی حمایت کے علاوہ جاری تنازعات کی وجہ سے بے گھر ہونے والے پناہ گزینوں کی امداد سمیت دیگر امور پر بھیی تبادلۂ خیال کیا گیا”۔
مزید برآں، اعلی سطح کے سعودی ذریعہ نے "رویٹرز” کو بتایا کہ رابطے کے دوران انتہا پسندی اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے دونوں ملکوں کی شراکت کے ساتھ ایک اعلی درجے کے خصوصی مرکز کے قیام پر بھی بات چیت کی گئی۔ ذریعہ نے یقین دہانی کی کہ دونوں رہنماؤں نے خطے میں ایرانی پالیسیوں کے بارے میں اپنے نقطۂ نظر کو بیان کیا، اس کے علاوہ دونوں رہنماؤں نے آنے والے وقت میں دونوں ملکوں کے مابین سیکورٹی اور فوجی تعاون کے فروغ کی اہمیت پر زور دیا۔
دوسری جانب، کل ٹرمپ نے ابو ظہبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید آل نہیان سے بھی ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔ امارات کی اخباری ایجنسی کے مطابق اس دوران دونوں اطراف نے خطے میں انسانی بحران اور سیکورٹی کی خرابی پر اقدامات جیسے اہم امور پر تبادلۂ خیال کیا۔
جبکہ گذشتہ جمعہ کے روز ٹرمپ کی طرف سے 7 اسلامی ممالک کے پناہ گزین اور عوام کو ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں داخل ہونے پر پابندی لگانے کے بعد عالمی سطح پر جاری مظاہروں کے ضمن میں کل بہت سے امریکی ایئر پورٹوں پر افراتفری جاری رہی۔