"لوور” میوزیم میں دھاردار ہتھیار کے ذریعہ ایک دہشت گردانہ حملہ
پیرس: میکائل ابو نجم کل پیرس میں لوور نامی میوزیم میں کئے گئے حملہ کی تحقیق وتفتیش کے قریبی ذرائع نے بتایا ہے کہ جس شخص نے دھاردار ہتھیار کے ساتھ میوزیم میں داخل ہونے کی کوشش کی اور پولس نے اس پر گولی چلائی وہ مصر کا ایک باشندہ تھا […]

پیرس: میکائل ابو نجم
کل پیرس میں لوور نامی میوزیم میں کئے گئے حملہ کی تحقیق وتفتیش کے قریبی ذرائع نے بتایا ہے کہ جس شخص نے دھاردار ہتھیار کے ساتھ میوزیم میں داخل ہونے کی کوشش کی اور پولس نے اس پر گولی چلائی وہ مصر کا ایک باشندہ تھا اور چند دن قبل فرانس پہنچا تھا۔
ذرائع نے مزید کہا کہ تفتیش وتحقیق کے دلائل یہ بتاتے ہیں کہ وہ مصر کا ایک باشندہ تھا اور اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ وہ فرانس گزشتہ جنوری کو پہنچا تھا۔ ذرائع نے پرزور انداز میں کہا ہے کہ اس کا نام عبد اللہ رضا رفاعی تھا اور اس کی عمر 29 سال تھی۔
اسی طرح صدر فرنسو ہولانڈ نے اپنی فوجیوں کی بہادری کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ عمل وحشیانہ ہے۔
فرانس کی پولس نے کہا کہ پیرس میں میوزیم کے سامنے فوج پر کئے جانے والے حملہ سے ایک فوجی نے دو بیگ اور ایک سفید رنگ کا دھاردار ہتھیار اٹھائے ہوئے شخص پر گولی چلایا اور پولس نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ اس شخص نے "اللہ اکبر” کا نعرہ لگایا اور گولی چلانے سے قبل میوزیم کے ایک شاپنگ سینٹر کے قریب گشت کرنے والی فوجیوں کی ایک جماعت پر حملہ کر دیا۔ پیرس پولیس کے کمانڈر میکائل کاڈوت نے کہا کہ حملہ آور ابھی زندہ ہے لیکن اسے کاری زخم لگی ہے۔
ہفتہ 8 جمادی الاول 1438ہجری – 4 فروری 2017 شمارہ نمبر {13948}