صیدنایا میں موت کے سیل – 13 ہزار قیدیوں کو پھانسی
4 سال سے شامی جیلوں میں جاری "انسانی مذبح خانے” ونسل کشی پر "انٹرنیشنل ایمینسٹی” کی رپورٹ بيروت: كارولين عاكوم ایمنسٹی انٹرنیشنل تنظیم نے اپنی ایک رپورٹ میں (شام میں) "انسانی مذبح خانہ: صیدنایا جیل میں اجتماعی پھانسی اور نسل کشی” کا انکشاف کیا ہے۔ اس رپو
4 سال سے شامی جیلوں میں جاری "انسانی مذبح خانے” ونسل کشی پر "انٹرنیشنل ایمینسٹی” کی رپورٹ

بيروت: كارولين عاكوم
ایمنسٹی انٹرنیشنل تنظیم نے اپنی ایک رپورٹ میں (شام میں) "انسانی مذبح خانہ: صیدنایا جیل میں اجتماعی پھانسی اور نسل کشی” کا انکشاف کیا ہے۔ اس رپورٹ میں کل تنظیم نے دمشق کے باہر شامی جیل کے سیلوں سے 1 سے 50 افراد کے گروپ کو ہفتے میں دو بار ماورائے عدالت خفیہ طور پر سزائے موت دیئے جانے کے بارے میں بتایا ہے۔
یہ رپورٹ جو کہ ( 2012 سے 2015 تک) چار سالوں پر محیط ہے، اس میں شامی حکومت کی جیلوں میں قیدیوں کی صورت حال پر روشنی ڈالی گئی ہے، جو کہ جنگی جرائم میں اضافہ کا باعث ہے۔ تنظیم کی رپورٹ کے مطابق جیل کے ان سیلوں میں قید 13 ہزار افراد کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا ہے جبکہ اکثر قیدی عوامی اپوزیشن سے تعلق رکھتے ہیں۔
تنظیم کی رپورٹ دسمبر 2015 سے دسمبر 2016 تک کی ہے، جس میں 84 گواہوں کے انٹرویو شامل ہیں۔ ان گواہوں میں جیل کے سابقہ گارڈ، عہدیدار، قیدی، جج اور وکلاء شامل ہیں۔ علاوہ ازیں ان میں شام میں قیدیوں کے مسائل کے بین الاقوامی اور مقامی ماہرین بھی شامل ہیں۔