اتحاد کی طرف سے داعش کے فرانسیسی ماسٹر مائنڈ کا نشانہ

لندن ­ سڈنی: "الشرق الاوسط” ریاستہائے متحدہ امریکہ کی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد نے اعلان کیا ہے کہ اس نے تنظیم داعش میں فرانسیسی لیڈر رشید قاسم کو موصل کے قریب ایک فضائی حملہ میں نشانہ بنایا ہے لیکن اتحاد نے اس کے قتل ہونے کی تصدیق نہیں کی ہے […]

اتحاد کی طرف سے داعش کے فرانسیسی ماسٹر مائنڈ کا نشانہ
4

لندن ­ سڈنی: "الشرق الاوسط”

ریاستہائے متحدہ امریکہ کی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد نے اعلان کیا ہے کہ اس نے تنظیم داعش میں فرانسیسی لیڈر رشید قاسم کو موصل کے قریب ایک فضائی حملہ میں نشانہ بنایا ہے لیکن اتحاد نے اس کے قتل ہونے کی تصدیق نہیں کی ہے اور اس نے یہ بھی اشارہ کیا ہے کہ فضائی حملہ کے نتائج کے جاننے کے فورا بعد تمام تفصیلات نشر کرے گا۔

اتحاد کو شک ہے کہ 13 جولائی کو ایفلین کے علاقہ کے مانیانفیل میں ایک پولس اور اس کی اہلیہ کے قتل اور 26 جولائی کو سین ماریٹیم کے علاقہ میں سانٹ اٹیان ڈو روفری کے چرچ میں ایک پادری کے ذبح کئے جانے کا براہ راست ذمہ دار قاسم ہی ہے۔ اسی طرح قاسم انٹر نیٹ کے ذریعہ کئے جانے والے داعش کے حملوں کا ماسٹر مائنڈ تھا۔

دوسری طرف داعش میں شامل خالد شروف نامی ایک لبنانی دہشت پسند کے سلسلہ میں خبر ملی ہے اور اسٹریلیا نے اس کی نیشنلیٹی ختم کر دی ہے۔ اس کی عمر 35 سال ہے۔ اس نے 2013 میں اسٹریلیا چھوڑ کر شام کی طرف روانہ ہو گیا تھا۔ داعش میں شامل ہونے سے پہلے وہ اپنے ملک سے اپنے بھائی کا پاسپورٹ استعمال کر کے فرار ہوا تھا اسی وجہ سے اس کے پاس دو ملک اسٹریلیا اور لبنان کی نیشنلیٹی ہو تھی۔ اس نے اس سے قبل سنہ 2014 میں اپنے سات سال کے بیٹے کی تصویر نشر کی تھی جس میں وہ ایک شامی سرکاری ذمہ دار کے کٹے ہوئے سر کو اٹھائے ہوئے تھا۔

اتوار 16 جمادی الاول 1438ہجری – 12 فروری 2017 شمارہ نمبر {13956}