تنظیم کے لباس نے مجھے اپنی جانب راغب کیا: "داعشی” نوجوان "الشرق الاوسط” سے
"البغدادی کے قافلے” کو نشانہ بنایا… اور موصل لڑائی میں الجزائر کی خاتون صحافی زخمی موصل: دلشاد عبد الله موصل سے گرفتار کئے گئے صرف چودہ سالہ نوجوان نے "الشرق الاوسط” کو بتایا کہ وہ کیسے "داعش” میں شامل ہوا اور کس طرح تشدد پسند اس تنظیم کا خطرناک تر
"البغدادی کے قافلے” کو نشانہ بنایا… اور موصل لڑائی میں الجزائر کی خاتون صحافی زخمی

موصل: دلشاد عبد الله
موصل سے گرفتار کئے گئے صرف چودہ سالہ نوجوان نے "الشرق الاوسط” کو بتایا کہ وہ کیسے "داعش” میں شامل ہوا اور کس طرح تشدد پسند اس تنظیم کا خطرناک ترین شوٹر بنا۔
محمد احمد نے کہا: "مجھے تنظیم کے ہتھیاروں اور لباس نے مرغوب کیا اور میرے والد نے مجھے ان کے ساتھ شامل ہونے کے لئے حوصلہ افزائی کی۔” نوجوان نے کہا کہ الرقہ میں بچوں کے ایک بڑے تربیتی کیمپ میں مجھے بھیجا گیا، جہاں "ہم تنظیم کے ہاں قیدیوں پر ذبح کرنے اور پھانسی دینے کی مشقیں کرتے۔” اس نے کہا کہ تربیت مکمل کرنے کے بعد وہ ایک ماہر شوٹر بن گیا اور اس کے بعد اس نے کئی ایک چوکیوں اور پرتشدد کاروائیوں کی نگرانی کی۔
دوسری جانب، کل عراقی جنگی ذرائع ابلاغ نے اپنے جاری بیان میں کہا کہ "شام کی سرزمین سے نکل کر عراقی علاقے میں داخل ہوتے ہوئے دہشت گرد ابوبکر البغدادی اور بعض رہنماؤں کے قافلے کا پیچھا کیا گیا اور انہیں نشانہ بنایا گیا” جبکہ اس دوران "داعش” کے کسی رہنما کی ہلاکت کے بارے میں کوئی بیان نہیں دیا گیا۔
عوامی فوج کے ترجمان کے مطابق موصل کے مغرب میں انہوں نے "داعش” کے تقریبا 200 مسلح افراد کے شام کی جانب فرار ہونے کو ناکام بنا دیا۔ ترجمان نے بتایا کہ اس دوران 17 موٹر سائیکلوں کو تباہ اور تقریبا 50 مسلح افراد کو ہلاک کر دیا گیا۔ جبکہ موصل کاروائی کی کوریج کرتی ہوئی ایک الجزائری خاتون صحافی سر میں گولی لگنے سے زخمی ہوگئیں۔ مبینہ طور پر کہا گیا ہے کہ ان کی حالت انتہائی نازک ہے۔