موصل کی شکست کے بعد داعش کے لیڈر شام کی طرف فرار
اربيل: دلشاد عبد الله کل ایک کردی ذمہ دار نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ "داعش” "تلعفر "اور "تعاج” کے راستوں سے اپنے دسیوں رہنماؤں، ذمہ داروں اور اپنے اہل خانہ کو شام کی طرف روانہ کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں جبکہ انہوں نے اس سے قبل حملہ […]

اربيل: دلشاد عبد الله
کل ایک کردی ذمہ دار نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ "داعش” "تلعفر "اور "تعاج” کے راستوں سے اپنے دسیوں رہنماؤں، ذمہ داروں اور اپنے اہل خانہ کو شام کی طرف روانہ کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں جبکہ انہوں نے اس سے قبل حملہ میں "الحشد الشعبی” کے میلیشیاؤں کی طرف سے تلعفر کی گھیرا بندی کو توڑ دیا ہے۔
کردستان قومی اتحاد نامی تنظیم کی میڈیاء کے ایک ذمہ دار غیاس سورجی نے "الشرق الاوسط” کو اطلاع دی ہے کہ داعش کے مسلح افراد نے دو دن قبل ٹینکوں اور بکتر بند گاریوں کے ذریعہ تلعفر کے مغرب میں "الحشد الشعبی” کے فرنٹ پر حملہ کر کے چھ گھنٹوں سے زائد مدت تک جنگ کرنے کے بعد ان کی طرف سے کی گئی تلعفر کی گھیرا بندی کو توڑ دیا ہے اور پھر اس کے بعد تلعفر سے بعاج کی طرف جانے کے راستہ کو کھول دیا۔
اتحاد نے مزید کہا کہ موصل سے فرار ہوکر تلعفر کی طرف آنے والے داعش کے اکثر رہنماء اور ذمہ دار اور ان کے اہل خانہ دسیوں گاڑیوں کے ذریعہ اس راستہ سے بعاج کی طرف پھر وہاں سے شام کی طرف فرار ہونے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔
جمعرات 20 جمادی الاول 1438ہجری – 16 فروری 2017 ء شمارہ نمبر {13960}