الجبیر ٹیلرسن سے ملاقات کے بعد "پر امید”
امریکی حکومت کی ماسکو کو مشروط تعاون کی پیشکش كولون: ماجد الخطيب سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے گروپ بیس کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے ضمن میں اپنے امریکی ہم منصب "ریکس ٹیلرسن” سے ملاقات کی، اس دوران وزرائے خارجہ نے دونوں ملکوں کے مابین دو طرفہ تعلقات کے فروغ […]
امریکی حکومت کی ماسکو کو مشروط تعاون کی پیشکش

كولون: ماجد الخطيب
سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے گروپ بیس کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے ضمن میں اپنے امریکی ہم منصب "ریکس ٹیلرسن” سے ملاقات کی، اس دوران وزرائے خارجہ نے دونوں ملکوں کے مابین دو طرفہ تعلقات کے فروغ اور شام ویمن سمییت علاقائی وبین الاقوامی تازہ ترین صورت حال کا جائزہ لیا۔
الجبیر نے اجلاسوں میں شرکت کے دوران کہا کہ وہ مشرق وسطی میں بہت سی مشکلات پر قابو پانے کے بارے میں پر امید ہیں اور وہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی حکومت کے ساتھ کام کرنے کے متمنی ہیں۔
نئے امریکی وزیر خارجہ "ٹیلرسن” بون اجلاس میں شرکت کے ذریعے اپنی پہلی بین الاقوامی کاروائی کی ابتدا کی، جبکہ واشنگٹن کی خارجہ پالیسی پر بے یقینی کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ ٹیلرسن نے دونوں ملکوں کے مفاد کی خاطر اپنے روسی ہم منصب سیرگی لافروف کو یوکرائن میں امن معاہدے کے احترام کے مطالبہ کے ساتھ مشروط تعاون کی پیشکش کی۔ ٹیلرسن نے لافروف سے ملاقات کے بعد بیان میں کہا کہ "امریکی عوام کے مفاد کی صورت میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ روس کے ساتھ عملی تعاون کے لئے کام کرنے پر غور کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ "وہ معاملات جن پر ہمارا اختلاف ہے ان میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ اپنے مفادات، اقدار اور اپنے اتحادیوں کا دفاع کرے گا۔”
دوسری جانب لافروف نے کہا کہ ماسکو دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی نہیں کرتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہمارے سامنے کئی ایک مسائل ہیں جن کا حل ضروری ہے اور میرے خیال میں ہم بات چیت اور مشترکہ عمل سے ان کا حل تلاش کر سکتے ہیں۔” انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ "روس اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کو اپنے مفادات کو سمجھنا چاہئے۔”