لیبیا کے مسائل میں واشنگٹن کی ثالثی اور حفتر کی چاپلوسی
قاہرة: خالد محمود اس بات کی اطلاع ملی ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ سابق صدر اوباما کی پالیسی کے بر عکس لیبیا کی فائل کو کھولنے کے لئے مستغد ہے۔ "الشرق الاوسط” کو اس بات کی بھی اطلاع ملی ہے کہ ٹرمپ کے نمائندوں اور لیبیا قومی فوج […]

قاہرة: خالد محمود
اس بات کی اطلاع ملی ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ سابق صدر اوباما کی پالیسی کے بر عکس لیبیا کی فائل کو کھولنے کے لئے مستغد ہے۔ "الشرق الاوسط” کو اس بات کی بھی اطلاع ملی ہے کہ ٹرمپ کے نمائندوں اور لیبیا قومی فوج کے کمانڈنگ جنرل خلیفہ حفتر کے مشیر کار کے درمیان بلاواسطہ گفتگو ہوئی ہے۔
لیبیا اور امریکہ کے ذرائع نے "الشرق الاوسط” کو بتایا ہے کہ قاہرہ حفتر اور ٹرمپ کی انتظامیہ کے درمیان تعلقات قائم کرنے اور براہ راست گفتگو کرانے کی کوشش کر رہا ہے۔ دونوں طرفین کے مابین ہونے والی ان گفتگو کے ایک ذمہ دار نے ٹرمپ کی حکومت کے زمانہ میں امریکی نقطۂ نظر کا انکشاف کیا ہے اور کہا ہے کہ حفتر سے نمٹنے کے لئے غور وفکر کیا جائے گا کیونکہ وہ ابھی لیبیا میں ایک طاقتور شخص ہے لیکن اس کی وجہ سے واشنگٹن دوسرے سرگرم فریقوں سے گفتگو کرنے میں جھجھک محسوس نہیں کرے گا۔
اتوار 23 جمادی الاول 1438ہجری – 19 فروری 2017ء شمارہ نمبر {13963}