ترکی کی طرف سے واشنگٹن کے لئے رقہ کی مہم میں کردیوں کو دور کرنے والی دو تجویزیں

بيروت: نذير رضا وبولا اسطيح ­ ترکی نے شام کے رقہ شہر میں تنظیم داعش کو انکے قلعوں سے مار بھگانے کے لئے کی جانے والی مشترکہ فوجی مہم کے نفاذ کی کیفیت کے سلسلہ میں دو تجویزیں پیش کی ہے جن میں اس بات کا ذکر ہے کہ کردی افراد […]

ترکی کی طرف سے واشنگٹن کے لئے رقہ کی مہم میں کردیوں کو دور کرنے والی دو تجویزیں
3

بيروت: نذير رضا وبولا اسطيح ­

ترکی نے شام کے رقہ شہر میں تنظیم داعش کو انکے قلعوں سے مار بھگانے کے لئے کی جانے والی مشترکہ فوجی مہم کے نفاذ کی کیفیت کے سلسلہ میں دو تجویزیں پیش کی ہے جن میں اس بات کا ذکر ہے کہ کردی افراد اس مہم میں شرکت نہیں کریں گے۔

کل "حرییٹ” نامی ایک ترکی میگزین نے ذکر کیا ہے کہ ترکی نے دو تجویزیں پیش کی ہے جس میں پرزور انداز میں اس بات کا ذکر ہے کہ اس مہم میں وہ علاقائی عربی فوج شرکت کریں گی جن کو ترکی فوج کی حمایت حاصل ہوگی نہ کہ شام کی اس ڈیموکریٹک فوج کی حمایت حاصل ہوگی جس کی مدد ریاستہائے متحدہ امریکہ کر رہا ہے اور جس پر کردیوں کی پپلز تحفظ یونٹس کا قبضہ ہے۔

ترکی وزیر اعظم بن علی یلدرم نے اپنے جرمن کے دورہ پر کہا کہ اگر امریکہ نے تنظیم داعش کے خلاف رقہ کی مہم میں کردی ٹولیوں کو شریک کیا تو اس کے ساتھ تعلقات کے سلسلہ میں بڑے ہی پر خطر معاملات ہونگے۔ انہوں نے صحافیوں سے کہا کہ ہم نے ان کو پیغام پہنچا دیا ہے کہ ان کے کہنے کے مطابق ایک دہشت گرد جماعت کے خلاف جنگ میں دوسری دہشت گرد جماعت کو استعمال کرنا جائز نہیں ہے۔

اتوار 23 جمادی الاول 1438ہجری – 19 فروری 2017ء شمارہ نمبر {13963}