سلیمان: حزب اللہ کی طرف سے شام میں مقابلہ کی موافقت کا خاتمہ
بيروت: ثائر عباس لبنان کے سابق صدر میکائل سلیمان نے ملک اور حکومت کو اس بات کی دعوت دی ہے کہ وہ اپنے خارجی تعلقات کی حفاظت کے لئے کمر بستہ ہو جائیں اور یہ دعوت اس وقت دی جب "حزب اللہ” کے جنرل سکریٹری حسن نصر اللہ نے سعودی عرب […]

بيروت: ثائر عباس
لبنان کے سابق صدر میکائل سلیمان نے ملک اور حکومت کو اس بات کی دعوت دی ہے کہ وہ اپنے خارجی تعلقات کی حفاظت کے لئے کمر بستہ ہو جائیں اور یہ دعوت اس وقت دی جب "حزب اللہ” کے جنرل سکریٹری حسن نصر اللہ نے سعودی عرب اور امارات کے خلاف زبانی حملہ کیا۔
سلیمان "الشرق الاوسط” کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل کے خلاف بر سر پیکار ہونے اور اس سے مقابلہ کرنے میں خلیجی ممالک کے ساتھ لبنان کے تعلقات ہی تقویت کے باعث تھے۔ اس مقابلہ آرائی میں ہمارے وہ فرزند سر فہرست تھے جو سعودی عرب میں کام کرتے ہیں۔ اگر یہ لوگ نہ ہوتے تو لبنان دس سالوں تک اپنے اضطراب وانتشار، مشکلات اور چیلنجوں کا سامنا نہیں کر سکتا تھا۔
لبنانی وزارت کے مطابق نو سال کی مدت تک فوج کے سربراہ رہنے والے سلیمان کا کہنا یہ ہے کہ حزب للہ کو شام میں جنگ کرنے کی کسی اجازت نہیں دی تھی لیکن اسے اسرائیل کے خلاف جنگ کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ اسی وجہ سے فوج، عوام اور مزاحمت کی سہ رکنی موافقت ختم ہو گئی کیونکہ جب حزب اللہ نے اپنے ہتھیار اور تمام طاقت وقوت کے ساتھ شام کا قصد کیا تو یہ موافقت ختم ہو گئی۔
بدھ 26 جمادی الاول 1438ہجری – 22 فروری 2017ء شمارہ نمبر {13966}