تہران انقرہ سے: ہمارے صبر کی حد ہے
"فرقہ واریت” پر ترکی کی تشویش کے بارے میں یلدریم کی یقین دہانی لندن: عادل السالمی – انقرہ: سعيد عبد الرزاق خطے میں ایران کے رویے کا سامنا کرنے کے بارے میں میونخ میں علاقائی اور امریکی اجلاس کے چند روز بعد کل ترکی اور ایران کے مابین بیانات کے تبادلہ پر باہمی […]
"فرقہ واریت” پر ترکی کی تشویش کے بارے میں یلدریم کی یقین دہانی

لندن: عادل السالمی – انقرہ: سعيد عبد الرزاق
خطے میں ایران کے رویے کا سامنا کرنے کے بارے میں میونخ میں علاقائی اور امریکی اجلاس کے چند روز بعد کل ترکی اور ایران کے مابین بیانات کے تبادلہ پر باہمی کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے تہران میں ترکی کے سفیر کو طلب کیا اور انہیں اپنی احتجاجی دستاویز دی، جس میں کہا گیا تھا کہ گذشتہ دنوں کے دوران ترک صدر رجب طیب اردگان اور وزیر خارجہ مولود جاویش اوغلو کی طرف سے دیئے گئے بیانات "غیر حقیقی” ہیں۔
اوغلو نے ایران پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ شام اور عراق میں فرقہ واریت پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے۔ قبل ازیں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے کہا تھا کہ ایران "ترکی پر صبر کرے گا لیکن صبر کی بھی حد ہوتی ہے”۔
اس کے برعکس ترک وزیر اعظم بن علی یلدریم نے ایرانی رویہ پر سخت الفاظ میں تنقید کرتے ہوئے دھمکی دی کہ "فرقہ واریت کے سبب اسے بہت زیادہ اٹھانا پڑ سکتا ہے”۔ انہوں نے اپنے بیان میں سعودی عرب اور خلیجی ممالک میں اس نقطۂ نظر کی وجہ سے پریشانی کی جانب بھی اشارہ کیا۔