بین الاقوامی شفافیت تنظیم: داعش کے ظہور کے بعد فساد کا آغاز

لندن: "الشرق الاوسط” غیر سرکاری بین الاقوامی شفافیت تنظیم نے کل اپنے رپورٹ میں کہا ہے کہ "بوکو حرام” اور "داعش” جیسی دہشت گرد تنظیموں کے ظہور کی وجہ سے فساد پنپنا شروع ہوا ہے اور رپورٹ میں مغربی حکومتوں کو اس بات کی دعوت دی گئی ہے کہ وہ خاص […]

بین الاقوامی شفافیت تنظیم: داعش کے ظہور کے بعد فساد کا آغاز
3

لندن: "الشرق الاوسط”

غیر سرکاری بین الاقوامی شفافیت تنظیم نے کل اپنے رپورٹ میں کہا ہے کہ "بوکو حرام” اور "داعش” جیسی دہشت گرد تنظیموں کے ظہور کی وجہ سے فساد پنپنا شروع ہوا ہے اور رپورٹ میں مغربی حکومتوں کو اس بات کی دعوت دی گئی ہے کہ وہ خاص طور پر عراق لیبیا اور نائجیریا میں فساد کے خلاف بر سر پیکار ہوں۔

"بڑی تبدیلی: فساد اور پر تشدد انتہا پسندی کا ظہور” کے عنوان سے تنظیم کی برطانوی برانچ کی طرف سے تیار کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ داعش جیسی دہشت پسند تحریکیں اس وقت ترقی پذیر ہوتی ہیں جب لوگ اپنے موجودہ حکمرانوں سے مایوس وناامید ہو جاتے ہیں، جب ذمہ داران لوگوں کی اکثریت کی پریشانی سے فائدہ اٹھاتے ہیں، جب پولس حمایت کرنے کے بجائے استغلال اور اقلیتوں کے اقتصادی مواقع پر اجارہ داری قائم کرتی ہے۔

رپورٹ میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ "بوکو حرام” اور "داعش” جیسی تنظیمیں اپنے اہلکار کو فوج میں شامل کرنے کے لئے فساد برہا کرتی ہیں اور اپنے آپ کو اس طرح پیش کرتی ہیں کہ وہ ان فاسد حکومتوں کے بدیل ہیں۔ انہوں نے پر زور انداز میں کہا کہ ابھی فساد سے مقابلہ کرنا ہی پہلا فرض عین ہے۔ انہوں نے مزید اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ اس کے خلاف سفارتی سطح پر کاروائیاں کی جائیں جیسے کہ ویزے نہ دئے جائیں اور کرپشن کو ختم کرنے کے لئے اثاثے منجمد کئے جائیں وغیرہ وغیرہ۔

بدھ 26 جمادی الاول 1438ہجری – 22 فروری 2017ء شمارہ نمبر {13966}