السیسی اور عبد اللہ دوم: دونوں ملکوں کے مسائل کو حل کرنا ایک قومی ترجیح ہے
قاہرة: "الشرق الاوسط” مصری صدارت نے کل کہا ہے کہ صدر عبد الفتاح السیسی نے اردن کے شاہ عبد اللہ دوم کے ساتھ امن وسلامتی، دونوں ملکوں کے مسائل کو حل کرنے کے لئے باہمی مشترکہ تعلق قائم کرنے اور 4 جون1967 کے مطابق فلسطینی حکومت کے قیام کے سلسلہ میں گفتگو […]

قاہرة: "الشرق الاوسط”
مصری صدارت نے کل کہا ہے کہ صدر عبد الفتاح السیسی نے اردن کے شاہ عبد اللہ دوم کے ساتھ امن وسلامتی، دونوں ملکوں کے مسائل کو حل کرنے کے لئے باہمی مشترکہ تعلق قائم کرنے اور 4 جون1967 کے مطابق فلسطینی حکومت کے قیام کے سلسلہ میں گفتگو کی ہے اور دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ بھی گفتگو ہوئی کہ اس فلسطینی حکومت کی دار السلطنت مشرقی بیت المقدس ہوگا۔ یاد رہے یہ وہ قومی بنیادیں ہیں جن سے تنازل اختیار نہیں کیا جا سکتا ہے۔
کل دوپہر کے وقت صدر السیسی نے اردن کے شاہ کا استقبال کیا جبکہ یہ دورہ اچانک اور صرف چند گھنٹوں پر مشتمل تھا۔ اس موقعہ سے انہوں نے صدر السیسی کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کے سلسلہ میں گفتگو کی ہے۔
دو دن کے بات ایک دورہ ہوگا جس میں گزشتہ سال ہوئی ایک ملاقات کا انکشاف کیا جائے گا جس میں مصری صدر، اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو، اردن کے شاہ اور امریکہ کے سابق وزیر خارجہ جون کیری کی شرکت ہوئی تھی۔
ایک صدارتی بیان نے کہا ہے جس کا انکشاف "الشرق الاوسط نیوز ایجنسی” نے کی ہے کہ مصری اور اردنی دونوں جانبین نے مذاکرات کے درمیان اس بات کا جائزہ لیا ہے کہ مشرق وسطی میں امن وسلامتی قائم کرنے کے سلسلہ میں جو جمود ہے اس کو ختم کرکے مستقبل میں کیا طریقۂ کار اختیار کیا جا ئے گا خاص طور پر جبکہ ریاستہائے متحدہ امریکہ میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ہاتھ میں باگ وڈور ہے۔
بدھ 26 جمادی الاول 1438ہجری – 22 فروری 2017ء شمارہ نمبر {13966}