حوثی دھوکے سے بچوں کو اپنے ساتھ بھرتی کر رہے ہیں: اقوام متحدہ

ملیشیاؤں نے عالمی انسانی امور کے ذمہ داران کو تعز میں داخل ہونے سے روک دیا   رياض ـ لندن: "الشرق الاوسط” کل اقوام متحدہ کے تابع انسانی حقوق کے اعلی کمیشن نے یمن میں حوثی ملیشیاؤں کی جانب سے "مالی انعامات یا سماجی حیثیت کے فریب” سے سینکڑوں بچوں کو اپنے ساتھ بھرتی کر

حوثی دھوکے سے بچوں کو اپنے ساتھ بھرتی کر رہے ہیں: اقوام متحدہ
ملیشیاؤں نے عالمی انسانی امور کے ذمہ داران کو تعز میں داخل ہونے سے روک دیا
1488322720625328700

رياض ـ لندن: "الشرق الاوسط”

کل اقوام متحدہ کے تابع انسانی حقوق کے اعلی کمیشن نے یمن میں حوثی ملیشیاؤں کی جانب سے "مالی انعامات یا سماجی حیثیت کے فریب” سے سینکڑوں بچوں کو اپنے ساتھ بھرتی کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ دریں اثناء انقلابی بمباروں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے انسانی امورا کے معاون اسٹیفن او برائن کو تعز شہر میں انسانی صورت حال کا جائزہ لینے کی خاطر دورہ کرنے سے انہیں منع کر دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے کمیشن کے اعداد وشمار کے مطابق 1500 سے زائد بچوں کو حوثیوں نے اپنے ساتھ بھرتی کیا ہے۔ کمیشن نے اشارہ کیا کہ "یہ عدد اس کے کہیں زیادہ بھی ہو سکتا ہے، کیونکہ اکثر خاندان انتقامی کاروائی کے خوف سے اپنی اولاد کے بھرتی کئے جانے کے بارے میں بات کرنے پر تیار نہیں ہیں”۔ کمیشن نے وضاحت کی کہ انہیں گذشتہ ہفتے "گھر والوں کو بتائے بنا بچوں کو بھرتی کئے جانے” کی نئی رپورٹ ملی ہے۔

کل بین الاقوامی "عفو ودرگزر” کی تنظیم نے حوثییوں کی جانب سے سینکڑوں بچوں کو بھرتی کئے جانے کے اقوام متحدہ کے الزامات پر اپنے جاری بیان میں کہا کہ "حوثیوں کے نمائندے مقامی مراکز چلا رہے ہیں جہاں وہ دینی لیکچر اور سرگرمیوں کے ذریعے بچوں اور مردوں کو اپنے ساتھ شامل کر کے چھڑپوں میں فرنٹ لائن پر لاتے ہیں”۔ تنظیم نے اس جانب اشارہ کیا کہ حوثی "سب سے زیادہ غریب بچوں کو اپنا ہدف بناتے ہیں”، وہ ان کے اہل خانہ کو مالی لالچ دیتے ہیں او ان سے معاہدہ کرتے ہیں کہ بچے کے قتل ہو جانے کی صورت میں وہ ماہانہ 20 سے 30 ہزار یمنی ریال (80 سے 120 ڈالر) انہیں دیں گے۔

بدھ 2 جمادى الثانی 1438 ہجری­ 01 مارچ 2017 ء  شمارہ: (13973)