ليبيا عمر مختار کے آخری ساتھی کی وفات کا سوگ منا رہا ہے

البرعصی کا 110 سال کی عمر میں انتقال   قاہرہ: خالد محمود کل لیبیا نے اطالوی سامراج کے خلاف لیبی رہنما عمر مختار کے آخری ساتھی عبد الرازق جلغاف البرعصی کی وفات پر سوگ منایا، جو کہ تقریبا 110 سال کی عمر میں ملک کے مشرقی شہر البیضاء میں انتقال کر گئے ہیں۔ […]

ليبيا عمر مختار  کے آخری ساتھی کی وفات کا سوگ منا رہا ہے
البرعصی کا 110 سال کی عمر میں انتقال
1488306080023894100

قاہرہ: خالد محمود

کل لیبیا نے اطالوی سامراج کے خلاف لیبی رہنما عمر مختار کے آخری ساتھی عبد الرازق جلغاف البرعصی کی وفات پر سوگ منایا، جو کہ تقریبا 110 سال کی عمر میں ملک کے مشرقی شہر البیضاء میں انتقال کر گئے ہیں۔

البرعصی نے گذشتہ صدی کی تیسری دہائی میں اطالوی سامراج کے خلاف مزاحمت میں حصہ لیا۔ وہ ایک ایسے خاندان سے تھے جو تاریخی اعتبار سے سنوسی خاندان سے تعلق رکھتا تھا اور انہی میں لیبیا کے مرحوم بادشاہ ادریس السنوسی بھی تھے۔ اطالویوں نے سنہ 1911 میں لیبیا پر قبضہ کر لیا اور سنہ 1951ء میں لیبیا کی آزادی سے قبل 16 ستمبر 1931ء کو لیبی مجاہدین کے رہنما عمر مختار کو گرفتار کرنے کے بعد انہیں پھانسی دے دی گئی تھی۔

البرعصی کی وفات کے ساتھ لیبیا نے اطالوی سامراج کے خلاف لیبی مزاحمت کے آخری نامور ستارہ کو کھو دیا ہے۔

البرعصی سنہ 1907 میں البیضاء شہر کے مشرقی علاقے میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اطالوی سامراج کے خلاف مزاحمت کا آغاز اپنی ابتدائی جوانی میں عمر مختار کے ہمراہ انہیں پھانسی دیئے جانے سے قبل کیا۔ خوش قسمتی سے وہ "البراعصہ” قبیلہ سے تھے جو اطالوی سامراج کے خلاف مزاحمت کے اعتبار سے مشہور ہے اور مؤرخین نے ان کا خصوصی ذکر کیا ہے کہ البراعصہ کے لوگوں نے اطالوی سامراج کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے۔

اطالوی جنگ کے دوران عمر مختار کی قیادت میں مزاحمتی تحریک نمودار ہوئی، جس میں قبیلہ البراعصہ اپنی طاقت کے ساتھ شامل ہوا اور انھی میں جلغاف البرعصی بھی تھے۔ انہوں نے قابض افواج کو خاص طور سے معرکوں میں بھاری نقصان پہنچایا جیسا کہ "ام الشافتیر” کا معرکہ جو سنہ 1927 میں ہوا۔

بدھ 2 جمادى الثانی 1438 ہجری­ 01 مارچ 2017 ء  شمارہ: (13973)